قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل سے جون 2026 کے دوران 2.452 ٹریلین روپے (2,452 ارب روپے) کی ریکارڈ ریکوری کی گئی، جبکہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی ریکوری کا حجم 5.414 ٹریلین روپے (5,414 ارب روپے) تک پہنچ گیا، جسے قومی احتساب بیورو کی تاریخ کی سب سے بڑی ششماہی ریکوری قرار دیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق مارچ 2023 سے جون 2026 تک مجموعی ریکوریز کا حجم 16.938 ٹریلین روپے (16,938 ارب روپے) تک پہنچ چکا ہے،رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران بلوچستان، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 78 ہزار 283 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔
اس کے علاوہ ہاؤسنگ اور مالیاتی فراڈ کے مقدمات میں 24 ہزار 365 سے زائد متاثرین کو 42.303 ارب روپے مالیت کی رقوم اور اثاثے واپس دلائے گئے۔
سکھر بیورو کی سب سے بڑی کارروائی
نیب کا کہنا ہے کہ سکھر بیورو نے بورڈ آف ریونیو سندھ اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے این ایچ اے، جنگلات اور محکمہ آبپاشی کی 8 لاکھ 53 ہزار 678 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 1.01 ٹریلین روپے بتائی گئی، یہ اراضی صوبائی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہے۔
دیگر کارروائیاں
رپورٹ کے مطابق نیب بلوچستان نے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ، کوسٹل ہائی وے اور ہنگول نیشنل پارک سمیت 2 لاکھ 9 ہزار 544 ایکڑ جنگلاتی اراضی واگزار کرائیاسی طرح نیب کراچی نے 11 ہزار 422 ایکڑ، نیب لاہور نے ایک ہزار 909 ایکڑ، نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے 810 ایکڑ اور نیب ملتان نے 920 ایکڑ سرکاری زمین بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
نیا نظام
نیب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ادارہ مکمل طور پر کاغذی کارروائی سے پاک ای آفس نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جبکہ تحقیقات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تحقیقاتی نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔