سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ’فاکس نیوز‘ کی وہ گرافک بے بنیاد اور جعلی ثابت ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 بچوں کے قتل کے الزام میں زیرِ حراست خاتون لنڈسے کلینسی کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور متعلقہ نیوز چینل دونوں نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔
3 ستمبر کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر تیزی سے گردش کرنے لگی جس پر معروف امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کا لوگو چسپاں تھا۔
اس گرافک میں واضح طور پر لکھا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لنڈسے کلینسی کو سزائے موت دینے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے تحقیقاتی شعبے ’فیکٹ چیک‘ کے مطابق فاکس نیوز کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ ان کے ادارے کی مستند گرافک نہیں ہے بلکہ اسے ڈیجیٹل طور پر گھڑا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے ای میل کے ذریعے جواب دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ خبر اور گرافک ’واضح طور پر جعلی‘ ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری کیے جانے کی کوئی مصدقہ اطلاع کسی بھی مستند ذریعے سے موصول نہیں ہوئی۔
لنڈسے کلینسی پر میساچوسٹس میں اپنے 3 کم سن بچوں کو قتل کرنے کا لرزہ خیز الزام ہے۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ وقوعہ کے وقت وہ ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ (بچوں کی پیدائش کے بعد ہونے والی شدید ذہنی بیماری) کا شکار تھیں، لہٰذا دماغی توازن درست نہ ہونے کی بنا پر انہیں بے گناہ قرار دیا جائے۔ 4 ستمبر کو ان کا ٹرائل بغیر کسی حتمی نتیجے کے (مس ٹرائل) ختم ہو گیا تھا۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ وہ اس مقدمے کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور کلینسی کے وکیل نے ان سے صدارتی معافی کی اپیل بھی کی تھی، لیکن یہ مقدمہ وفاقی نہیں بلکہ ریاستی قانون کے تحت چل رہا ہے۔
یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ ریاست میساچوسٹس کے موجودہ قوانین کے تحت سزائے موت کی سرے سے کوئی قانونی گنجائش ہی نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو وفاقی مقدمات میں سزائے موت کے حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط ضرور کیے تھے، لیکن انہوں نے یہ حکم کسی مخصوص شخص پر لاگو نہیں کیا۔
ڈیجیٹل میڈیا اور فیکٹ چیکنگ کے ماہر کے نقطہ نظر سے، یہ واقعہ اس بات کی سنگین یاد دہانی ہے کہ ہائی پروفائل اور جذباتی نوعیت کے مقدمات میں غلط معلومات کس قدر تیزی سے پھیلتی ہیں۔
معروف نیوز چینلز کے لوگوز استعمال کر کے جعلی گرافکس بنانا ایک عام اور خطرناک حربہ بن چکا ہے تاکہ جھوٹی خبروں کو مستند روپ دیا جا سکے۔
قانونی اعتبار سے بھی یہ دعویٰ مضحکہ خیز تھا کیونکہ ریاستی سطح کے مقدمات میں امریکی صدر کا براہ راست صدارتی حکم نامے کے ذریعے سزائے موت سنانا آئینی دائرہ کار سے بالکل باہر ہے۔
عوام کو چاہیے کہ سنسنی خیز اور جذباتی خبروں کو شیئر کرنے سے قبل مستند خبر رساں اداروں سے ان کی تصدیق ضرور کر لیں، کیونکہ ایسی جعلی خبریں نہ صرف قانونی نظام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ زیرِ سماعت مقدمات پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔