بھارت میں برکس اجلاس کے موقع پر دیے گئے خالصتاً سبزیوں پر مشتمل عشائیے میں چینی صدر کی عدم شرکت نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، بھارت ایک بار پھر عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارتی حکام نے اس غیر حاضری کا بہانہ کھانے کا مینیو نہیں بلکہ طویل سفر کی تھکاوٹ تھی۔
وزیراعظم مودی کی جانب سے دیے گئے 12 ستمبر کے برکس عشائیے کے مینیو میں پنیر لبابدار، باجرے کا پلاؤ اور مشروم کباب شامل تھے۔
کمرے میں موجود عالمی رہنماؤں کے لیے پیش کیے گئے اس کھانے کی میز پر گوشت، مچھلی یا انڈے سے بنی کوئی ڈش موجود نہیں تھی۔
اس خالصتاً نباتاتی مینیو کے ناشتے کے دوران چینی صدر غیر حاضر تھے انہوں نے شرکت نہیں کی، سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی کہ بھارت میں ’مستند‘ مقامی کھانوں کا فیصلہ آخر کون کرتا ہے؟۔
BREAKING –
Chinese President Xi Jinping did not attend the BRICS summit dinner.
The dinner served only Indian vegetarian dishes, such as paneer lababdar, millet pulao, and mushroom kebab. pic.twitter.com/RTcpr9g1r9
سوشل میڈیا پر بحث کے دوران کئی سنسنی خیز دعوے بھی سامنے آئےہیں ایک وائرل پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر کا قافلہ تاج پیلس کے راستے سے ہی واپس مڑ گیا تاکہ وہ مٹن کڑاہی اور چپلی پراٹھا کھا سکیں۔
عدم شرکت کی اصل وجہ
بھارتی میڈیا کو جب واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو اس نے تمام تر رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے خبریں نشر کرنا شروع کر دیں کہ چینی صدر نے یہ عشائیہ مینیو کی وجہ سے نہیں چھوڑا تھا۔
درحقیقت، طویل ہوائی سفر اور پہلے دن کی سخت مصروفیات، جن میں برکس کا مرکزی اجلاس اور وزیراعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات شامل تھی، کے باعث وہ شدید تھکاوٹ کا شکار تھے۔
واضح رہے کہ عشائیے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت دیگر برکس رہنماؤں، وفاقی وزرا اور کئی وزرائے اعلیٰ نے بھرپور شرکت کی۔
سفارتی امور اور کلچرل ڈپلومیسی کے ایک ماہر کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو، سرکاری سطح پر کھانوں کا مینیو محض ضیافت نہیں بلکہ ایک طاقتور سیاسی اور ثقافتی پیغام ہوتا ہے۔
بھارت کا مسلسل سبزیوں پر مشتمل عشائیے پیش کرنا دراصل ایک سوچی سمجھی سافٹ پاور اور برانڈنگ کی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد بعض ماہرین مذہب سے جوڑ رہے ہیں کہ مودی سرکار کا یہ ڈنر ایک مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کے لیے تھا۔
تاہم سفارت کاری کی دنیا میں یہ ایک نازک توازن کا متقاضی عمل ہے۔ مہمانوں کی غذائی ترجیحات کا خیال رکھنا بہت ہی اہم ہے۔
جب مہمانوں پر محض ایک ہی غذائی رجحان مسلط کرنے کا تاثر ابھرتا ہے، تو اس سے وہ ثقافتی کشادگی متاثر ہوتی ہے جو کسی بھی بین الاقوامی فورم کا بنیادی جزو ہونی چاہیے۔
مستقبل کے سفارتی ایونٹس کے لیے ضروری ہے کہ میزبان ریاستیں اپنی مخصوص برانڈنگ کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے لیے متبادل آپشنز کو بھی یقینی بنائیں۔