راولاکوٹ آزاد کشمیر میں امن عامہ مزید خراب، کالعدم جتھے کی قانون شکنی کے تہلکہ خیز انکشافات

راولاکوٹ آزاد کشمیر میں امن عامہ مزید خراب، کالعدم جتھے کی قانون شکنی کے تہلکہ خیز انکشافات

ترجمان ضلعی انتظامیہ راولاکوٹ، پونچھ کے مطابق کالعدم فسادی جتھے نے تحصیل ہجیرہ میں خواتین کو ہراساں کرنے، شہر بھر میں مسلح مورچہ بندی اور درجنوں تعلیمی ادارے زبردستی بند کرنے کا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

خطے میں امن عامہ اور انتظامی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے ہوشربا حقائق منظر عام پر لائے ہیں۔

ترجمان کے مطابق  ایک کالعدم فسادی جتھے نے معاشرتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ قانون شکنی کے ان واقعات نے پورے پونچھ ڈویژن میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دریائے نیلم کے اس پار بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے بڑی سکرین پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی تقریریں اور ویڈیو ز چلا دیں

خواتین کی تذلیل اور ہراسانی

ترجمان کے مطابق تاریک ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحصیل ہجیرہ میں خواتین کا راستہ روکا گیا۔ انتہا پسند عناصر نے خواتین کو زبردستی روکا اور شناختی تصدیق کے نام پر ان کے نقاب زبردستی اتارنے پر مجبور کیا، جو مقامی روایات اور انسانی وقار پر صریح حملہ ہے۔

مسلح مورچہ بندی اور سیکیورٹی خدشات

ترجمان کے مطابق راولاکوٹ شہر اور اس کے اطراف کے حساس مقامات پر مسلح عناصر نے مورچے سنبھال لیے ہیں۔ بالخصوص چاندنی چوک سے ڈی چوک، بس ٹرمینل اور تیارمیہ کے قرب و جوار میں مسلح افراد کی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جس سے شہری خوف زدہ ہیں۔

سرکاری ملازمین پر تشدد اور راستوں کی بندش

ترجمان کے مطابق شرپسند عناصر نے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر آمدورفت معطل کر رکھی ہے۔ ڈیوٹی پر جانے والے سرکاری ملازمین کو ان غیر قانونی ناکوں پر روکا جاتا ہے، انہیں زدوکوب کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

تعلیمی اداروں کی جبری بندش

ترجمان کے مطابق خوف و ہراس پھیلا کر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو زبردستی بند کرایا جا رہا ہے۔ تحصیل راولاکوٹ اور تھوراڑ سمیت دریک، حسین کوٹ، چک، کھائیگلہ، بجنوسہ، جھنڈاالی، دو تھان، بن بہک، بگھر، ملی سومہل، سنگولہ، پاینڈول اور جنڈالہ میں اسکولوں اور کالجز کے دروازے طلبہ پر بند کرا دیے گئے ہیں۔

منافقانہ پروپیگنڈا

ترجمان کے مطابق ایک طرف یہ جتھہ خود بچوں کا روشن مستقبل اور تعلیمی نظام تباہ کر رہا ہے، اور دوسری طرف دھرنے کے اسٹیج سے کھڑے ہو کر اسکولوں کی بندش کا جھوٹا الزام ریاست اور حکومت کے سر تھوپ رہا ہے۔

واضح رہے کہ پونچھ ڈویژن اور بالخصوص راولاکوٹ کا خطہ سیاسی و سماجی حساسیت کی وجہ سے ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔

مزید پڑھیں:عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جعلی پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیے

ماضی میں بھی دھرنے اور احتجاج کی آڑ میں انتظامی معاملات کو مفلوج کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ جب بھی کوئی انتہا پسند گروہ معاشرتی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، تو وہ تعلیم، نقل و حرکت اور خواتین جیسے حساس شعبوں کو ہدف بناتا ہے تاکہ کم وقت میں زیادہ نفسیاتی دباؤ حاصل کیا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق یہ واقعات اور الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو راولاکوٹ اور پونچھ میں رونما ہونے والے یہ واقعات محض احتجاج نہیں بلکہ منظم تخریب کاری اور ہائبرڈ پریشر کا تسلسل ہیں۔ 

خواتین کے نقاب زبردستی اتارنا اور تعلیمی اداروں کو بند کرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر معاشرے کے نرم حصوں کو نشانہ بنا کر خوف کی فضا بنانا چاہتے ہیں۔

دھرنے کے اسٹیج سے جھوٹا پروپیگنڈا اس بات کا غماز ہے کہ یہ جتھے اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ان مسلح مورچوں کو ختم کرے۔

قانون کی رٹ میں ذرا سا سمجھوتا پورے خطے کو انارکی کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے۔ ریاست کو ان عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن سکیورٹی آپریشن کی ضرورت ہے۔

Related Articles