سفارتی تنہائی کے شکار بھارت کو برکس اجلاس میں بھی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا

سفارتی تنہائی کے شکار بھارت کو برکس اجلاس میں بھی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا

بھارت کی میزبانی میں ہونے والے برکس اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی سرگرمیاں اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں سے متعلق مناظر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

 اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کی باہمی ملاقاتوں، غیر رسمی گفتگو اور گروپ فوٹو کے دوران سامنے آنے والے مناظر کو بعض حلقوں کی جانب سے بھارت کی سفارتی تنہائی سے جوڑا جا رہا ہے۔

 مودی توجہ کا مرکز نہ بن سکے

برکس سربراہی اجلاس کو بھارت نے اپنی عالمی سفارتی حیثیت اجاگر کرنے کے اہم موقع کے طور پر پیش کیا، تاہم اجلاس کے دوران بعض ایسے مناظر سامنے آئے جن پر بھارتی حکومت اور میڈیا کے بیانیے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔

عالمی رہنما اجلاس کے دوران مختلف دوطرفہ اور باہمی ملاقاتوں میں مصروف نظر آئے، جبکہ کئی مواقع پر بھارتی وزیر اعظم پس منظر میں دکھائی دیےماہرین نے ان مناظر کو بھارتی سفارت کاری کے لیے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو جس انداز میں پیش کرتا ہے، عملی صورتحال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔

گروپ فوٹو نے نئی بحث چھیڑ دی

برکس اجلاس کے دوران لیے گئے گروپ فوٹو  کا بھی سوشل میڈیا پر خاصی  چرچا رہا،سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مودی کو چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے قریب دیکھا گیا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ گروپ فوٹو کے موقع پر مودی نے دونوں رہنماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی،تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور سبکی اٹھانا پڑی۔

اہم رہنماؤں کی عدم شرکت

اجلاس میں بعض اہم ممالک کی اعلیٰ قیادت کی عدم شرکت بھی توجہ کا باعث بنی، سعودی عرب کی جانب سے اجلاس میں وزیر خارجہ کی سطح پر نمائندگی کی گئی، جبکہ برازیل کے صدر کی عدم شرکت کو بھی بعض حلقوں نے بھارتی میزبانی کے لیے اہم سفارتی سوال قرار دیا۔

 برکس جیسے بڑے عالمی فورم پر بڑی معیشتوں اور اہم ممالک کے سربراہان کی موجودگی میزبان ملک کے لیے سفارتی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اعلیٰ سطح کی عدم شرکت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

عشائیے کا مینو بھی موضوع بن گیا

برکس اجلاس سے متعلق عشائیے کے دوران کھانے کے مینو پر بھی سوشل میڈیا پر تبصرے سامنے آئے، گوشت کے بغیر کھانے کے انتخاب کو بعض صارفین نے بھارتی مذہبی اور سیاسی حساسیت سے جوڑا۔

سفارتی حیثیت پر بحث جاری

برکس اجلاس کے بعد سامنے آنے والے مناظر نے ایک مرتبہ پھر بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی سفارتی حیثیت کے دعووں پر بحث چھیڑ دی ہے، بھارتی حکومت طویل عرصے سے خود کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم اور بااثر ملک کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، جبکہ  حقیقت اس کے برعکس ہے اور  مختلف عالمی معاملات میں نئی دہلی کو اب بھی کئی سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

editor

Related Articles