آزاد انویسٹی گیشن سیل کا تہلکہ ،سہیل آفریدی کی این ایل سی سے متعلق تنقید اور الزامات بے نقاب،چونکا دینے والے حقائق سامنے آگئے

آزاد انویسٹی گیشن سیل کا تہلکہ ،سہیل آفریدی کی این ایل سی سے متعلق تنقید اور الزامات بے نقاب،چونکا دینے والے حقائق سامنے آگئے

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) پر کی جانے والی تنقید اور الزامات کے بعد  “آزاد انویسٹی گیشنز” کی تحقیقاتی رپورٹ میں انتہائی اہم اور چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں، دستیاب سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار کے مطابق، صوبائی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور حقیقت میں واضح تضاد موجود ہے۔

منصوبوں کی منسوخی، ناکامی یا فنڈز کا بحران؟

تحقیقات کے مطابق علی امین گنڈاپور کی صوبائی کابینہ کی جانب سے NLC کو دیے گئے جن منصوبوں کو منسوخ کیا گیا، ان کی وجہ ادارے کی ناقص کارکردگی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا شدید مالی بحران اور سیکیورٹی کی صورتحال تھی

   پشاور کے 4 بڑے پل: خیبر پختونخوا حکومت کے پاس فنڈز کی شدید عدم دستیابی کے باعث منسوخ ہوئے، شیخ بدین (1 اور 2) اور لکی مروت نرسنگ کالج: سیکیورٹی خدشات اور صوبائی مالیات میں کمی کے باعث بند کیے گئے۔

 کلیدی نقطہ: سرکاری ریکارڈ کے مطابق  NLC کا کوئی بھی منصوبہ “ناقص کارکردگی” یا “خراب معیار” کی بنیاد پر منسوخ نہیں کیا گیا۔

 جاری منصوبے: وقت سے پہلے پیش رفت

صوبائی حکومت کی جانب سے تنقید کے باوجود، NLC اس وقت خیبر پختونخوا میں اہم ترقیاتی منصوبوں پر بلا تعطل اور تیز رفتار کام جاری رکھے ہوئے ہے:

منصوبہ کل لاگت موجودہ صورتحال و پیش رفت 

 ڈیرہ اسماعیل خان (2x فلائی اوورز) 2,607 ملین روپے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی خصوصی درخواست پر NLC کے سپرد کیا گیا۔ معاہدے کے تحت یہ منصوبہ اکتوبر 2027 میں مکمل ہونا تھا، لیکن تیز رفتار کام کے باعث اپریل 2027 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

ڈیجیٹل سٹی ہری پور 896 ملین روپے، کام جاری ہے،صوبائی فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود کام معطل نہیں ہوا،تانڈہ ڈیم کوہاٹ 1,680 ملین روپے، انتہائی تکنیکی مرحلے میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

3۔ مکمل شدہ میگا پروجیکٹس (ریکارڈ کی بنیاد پر)

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، NLC نے گزشتہ سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں اربوں روپے کے میگا پروجیکٹس کامیابی سے مکمل کر کے صوبائی حکومت کے حوالے کیے ہیں۔

  اسپورٹس کمپلیکس حیات آباد: 1,012 ملین روپے

   بابِ پشاور فلائی اوور: 1,250 ملین روپے

   سروس روڈز (رنگ روڈ پشاور): 1,160 ملین روپے

  میگا پارک مردان: 391 ملین روپے

  شیخ ملتون ٹاؤن مردان: 384 ملین روپے

  چارسدہ چوک فلائی اوور: 516 ملین روپے

   جواد چوک فلائی اوور مردان: 460 ملین روپے

اصلی مسئلہ: صوبائی فنڈنگ کی عدم دستیابی

“آزاد انویسٹی گیشنز” کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ NLC ہمیشہ اپنے معاہدوں کی پاسداری کا پابند رہا ہے، صوبے میں مختلف منصوبوں میں تاخیر یا تعطل کی اصل وجہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے فنڈز کا جاری نہ ہونا ہے۔

مثال کے طور پر ڈیجیٹل سٹی ہری پور کا اصل دورانیہ 18 ماہ تھا اور اسے نومبر 2023 میں مکمل ہونا تھا، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے بروقت فنڈز فراہم نہ کیے جانے کے باعث اس کی متوقع تکمیل اب دسمبر 2026 تک مؤخر ہو چکی ہے۔

حقائق اور سرکاری اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے، بلکہ منصوبوں میں تاخیر اور منسوخی کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کے فنڈز کی کمی پر عائد ہوتی ہے۔

editor

Related Articles