سہیل آفریدی کو حراست میں نہیں لیا گیا، وہ خود پولیس وین میں بیٹھے: عظمیٰ بخاری

سہیل آفریدی کو حراست میں نہیں لیا گیا، وہ خود پولیس وین میں بیٹھے: عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی ڈرامہ بازی پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ وہ خود پولیس وین میں بیٹھے۔

عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی   کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فرمائشی اور سستی ایکٹنگ ہے، جس کے ذریعے گرفتاری کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔

 خود پولیس وین میں بیٹھے 

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھےانہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کو گرفتاری کا نام دے کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

سستی ایکٹنگ

عظمیٰ بخاری نے سخت الفاظ میں کہا کہ یہ فرمائشی اور سستی ایکٹنگ ہےانہوں نے کہا کہ پولیس کی گاڑی کے ڈرائیور نے سمجھا کہ لوگوں نے حملہ کردیا ہےوزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق صورتحال کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا، تاہم دستیاب فوٹیجز سے بہت سی چیزیں واضح ہوگئی ہیں۔

ڈرون فوٹیجز بھی شیئر

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انہوں نے ڈرون فوٹیجز بھی شیئر کی ہیں، جن سے یہ پتہ چل گیا ہے کہ سہیل آفریدی کے ساتھ کتنے لوگ موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ فوٹیجز کے ذریعے موقع پر موجود افراد کی تعداد اور صورتحال کو دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد واقعے سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

 پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کی فرمائشی اور سستی گرفتاری کا ڈرامہ بے نقاب کردیا ہے،عظمیٰ بخاری کے بیان کے بعد سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق سیاسی بحث مزید شدت اختیار کرگئی ہے اور دونوں جانب سے واقعے کی مختلف تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔

editor

Related Articles