ایران امریکا سے جلد معاہدہ چاہتا ہے،ٹرمپ نے بڑا دعوی کر دیا

ایران امریکا سے جلد معاہدہ چاہتا ہے،ٹرمپ نے بڑا دعوی کر دیا

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جلد از جلد معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے معاملے پر اظہار خیال کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ تہران فوری طور پر کوئی سمجھوتا چاہتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی،ٹرمپ

 امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ان کی جانب سے کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایران نے امریکا سے براہ راست رابطہ کیا ہے یا کسی ثالث کے ذریعے معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان میں ممکنہ مذاکرات کے ایجنڈے، مقام یا وقت کے بارے میں بھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے لیے کن شرائط پر بات چیت کرنے پر آمادہ ہوگا۔

 امریکی صدر کے دعوے کے بعد ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکومت امریکی صدر کے دعوے کو کس تناظر میں دیکھتی ہے اور آیا دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ رابطے کے لیے عملی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات کی بحالی کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کو کئی پیچیدہ معاملات پر اپنے مؤقف واضح کرنا ہوں گے۔

 یہ بھی پڑھیں ؛ایران نےایٹمی ہتھیار حاصل کر لیےتو نتائج مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں،ٹرمپ

 ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی برادری کی توجہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں پر مرکوز رہتی ہے۔

اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم فی الحال ٹرمپ کے بیان کے علاوہ کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط یا مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا دعویٰ ضرور کیا ہے، لیکن اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل اور دونوں ممالک کے درمیان عملی سفارتی پیش رفت ہی یہ واضح کرے گی کہ مذاکرات کا امکان کس حد تک حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے۔

editor

Related Articles