پرامن احتجاج ہر جماعت کا حق، تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثنا اللہ

پرامن احتجاج ہر جماعت کا حق، تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم کسی بھی صورت میں پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے  پسِ پردہ رابطے جاری ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

سہیل آفریدی کے دو مقاصد

رانا ثنا اللہ  کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کا پہلا مقصد بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کرانا جبکہ دوسرا مقصد حکومت گرانا ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی تقاریر میں یہ بات بھی کہہ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرائے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔

رہائی کی درخواستیں

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق درخواستیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، جہاں قانونی عمل جاری ہے،ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت معاملات کے حوالے سے قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے اور سیاسی احتجاج کو کسی صورت تشدد کی طرف نہیں جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :صوبوں کی تقسیم میں ابھی بہت وقت ، انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے ، رانا ثناءاللہ

اسلام آباد مارچ

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، تاہم حکومت پرامن احتجاج کے حق سے انکار نہیں کرتی،انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے، لیکن اگر احتجاج کے دوران تشدد کیا جائے تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

صوبوں کا معاملہ

نئے صوبوں سے متعلق جاری بحث پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو حکومت اس وقت اپنا مؤقف پیش کرے گی،انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے قیام یا کسی بھی آئینی معاملے پر حتمی فیصلہ حکومت نے اکیلے نہیں کرنا بلکہ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ہم نے فیصلہ نہیں کرنا، فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہےان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کا اختیار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو حاصل ہے، تاہم جب تک اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ بحث نہیں ہوتی، اس وقت تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

editor

Related Articles