وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ خود ساختہ گرفتاری کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی،دستیاب ویڈیو میں سہیل آفریدی کو خود پولیس وین میں سوار ہو کر بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے وین سے اترنے کا کہنے کے باوجود وہ کچھ دیر اندر موجود رہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے موقع پر ویڈیو بنائے جانے کے بعد سہیل آفریدی خود ہی پولیس وین سے باہر آ گئے، جس کے بعد واقعے کو گرفتاری یا اغوا کی کوشش کے طور پر پیش کیے جانے کے دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں،دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کو گرفتار یا اغوا کرنے کی کوشش کی گئی
ویڈیو میں دکھائی دینے والے مناظر کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی احتجاج کے دوران خود پولیس وین میں جا کر بیٹھتے ہیں۔ اس موقع پر پولیس اہلکار انہیں گاڑی سے اترنے کا کہتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ وین سے باہر نہیں آتے۔
اسی دوران پولیس وین کا ڈرائیور گاڑی آگے بڑھا دیتا ہے۔ وین کے چلنے کے بعد سہیل آفریدی گاڑی سے باہر آجاتے ہیں، جس کے بعد وہاں موجود کارکنوں میں اشتعال کی کیفیت پیدا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔بعد ازاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لکشمی چوک پہنچے، جہاں وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور کارکنوں کے ہمراہ احتجاج جاری رکھا۔
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خود پولیس وین میں جا کر بیٹھے اور پولیس کے کہنے کے باوجود باہر نہ آئے تو اسے گرفتاری قرار دینے سے پہلے واقعے کے تمام پہلوؤں کو دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :لاہور میں صحافی پر تشدد کا واقعہ: ہماری مرضی کے بغیر سوال کیوں کیا؟ سہیل آفریدی کے گارڈز کا سینئر صحافی پر تشدد!
دوسری جانب وزیراعلیٰ کی لاہور میں احتجاجی سرگرمیوں کے باعث پولیس بھی مختلف مقامات پر متحرک رہی۔ احتجاج کے دوران سڑکوں پر پولیس کی موجودگی اور کارکنوں کی نقل و حرکت کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور کے بعض شہریوں کی جانب سے بھی وزیراعلیٰ کے احتجاجی دورے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور آمدورفت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لاہور میں احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی اقدامات کو جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پولیس وین کے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اب سیاسی حلقوں میں بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ مذکورہ واقعہ واقعی گرفتاری کی کارروائی تھی یا احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی ایک غیر معمولی صورتحال۔ تاہم واقعے کی مکمل نوعیت پولیس اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے باضابطہ مؤقف کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا نیا ڈرامہ، زبردستی پنجاب پولیس موبائل میں بیٹھ گئے تاکہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو کے ان کو گرفتار کر لیا گیا، پنجاب پولیس ان کو موبائل سے اتارنے پر بضد سہیل آفریدی نیچے نہیں اتر رہے pic.twitter.com/aPFbmWMcbJ
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) September 14, 2026


