ٹیکنالوجی کی دوڑ یا انسانی خطرہ؟ اے آئی کی رفتار پر نئی بحث چھڑ گئی

ٹیکنالوجی کی دوڑ یا انسانی خطرہ؟ اے آئی کی رفتار پر نئی بحث چھڑ گئی

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے ایک بار پھر ماہرین کے درمیان تشویش پیدا کردی ہے، اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے بھی اے آئی ماڈلز کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اے آئی کی پیش رفت کو بعض شعبوں میں سست کرنا ضروری ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جدید ماڈلز تیزی سے نئی صلاحیتیں حاصل کر رہے ہیں۔ اے آئی کمپنی اینتھروپک کے سی ای او ڈیریو اموڈی نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو اسے انسانوں کے لیے قابو میں رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی سے بات کرتے ہوئے یہ 5 غلطیاں نہ کریں، ماہرین نے خبردار کردیا

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی سمیت سنگین خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی اب ایسی صلاحیتیں بھی حاصل کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، اس لیے اس کی بے قابو ترقی انسانوں کی سمجھ اور نگرانی کی صلاحیت سے آگے نکل سکتی ہے۔

ڈیریو اموڈی کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی میں غیر معمولی تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اے آئی سے چلنے والے نظام مستقبل قریب میں انٹرنیٹ کے بڑے حصے پر اثر انداز ہونے یا اسے بڑی حد تک کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔

اینتھروپک کے سربراہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی صرف سکیورٹی کے مسائل تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں معیشت میں بڑے پیمانے پر خلل بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیس بک اور گوگل پر صارفین کا ذاتی ڈیٹا خاموشی سے چرانے کا بڑا الزام

ان کے مطابق اے آئی کی دوڑ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی مفادات ممکنہ خطرات کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت، نگرانی اور انسانی کنٹرول کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔

اے آئی کے مستقبل پر جاری یہ بحث اس سوال کو مزید اہم بنا رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے یا اس کی رفتار کو اس وقت تک محدود رکھا جائے جب تک انسان اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر نظام تیار نہ کرلیں۔

editor

Related Articles