مقامی مارکیٹ میں پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں نیا ردوبدل سامنے آیا ہے، جس کے تحت برائلر گوشت 7 روپے فی کلو سستا جبکہ انڈے 2 روپے درجن مہنگے ہو گئے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد گوشت کا سرکاری نرخ 447 روپے اور انڈوں کا نیا ریٹ 247 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دورِ حاضر میں مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے پولٹری مارکیٹ سے ملی جلی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نئے نوٹیفکیشن کے بعد پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
برائلر گوشت اور زندہ مرغی کے نئے نرخ
حالیہ کمی کے بعد برائلر گوشت کی قیمت میں 7 روپے فی کلو کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد اس کی سرکاری قیمت 447 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں دکانداروں کی جانب سے من مانیاں جاری ہیں اور صافی گوشت 500 روپے فی کلو تک فروخت کیے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اسی طرح زندہ برائلر کی قیمت میں بھی 5 روپے فی کلو کمی کی گئی ہے۔ نئے نرخوں کے مطابق ’فارم گیٹ‘ پر زندہ برائلر 280 روپے فی کلو میں فروخت ہوگا۔ ہول سیل مارکیٹ میں یہ قیمت 294 روپے فی کلو جبکہ پرچون بازار کے لیے زندہ برائلر کا ریٹ 308 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔
انڈوں کی قیمتوں میں اڑان
دوسری جانب مرغی کا گوشت سستا ہونے کے باوجود انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فی درجن انڈوں کی قیمت میں 2 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد انڈوں کا نیا پرچون ریٹ 247 روپے فی درجن مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہول سیل مارکیٹ میں انڈوں کی پیٹی (کارٹن) کی قیمت 7 ہزار 290 روپے پر پہنچ گئی ہے، جس سے ناشتے میں انڈے کا استعمال کرنے والے عام صارفین پر بوجھ بڑھا ہے۔
ملک بھر میں پولٹری کی قیمتیں طلب و رسد، مرغیوں کی خوراک (پولٹری فیڈ) اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں۔
ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ جب قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے، تو دکاندار سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کی قیمت وصول کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 447 روپے سرکاری ریٹ ہونے کے باوجود صافی گوشت 500 روپے میں بیچا جا رہا ہے جو کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
اقتصادی اور مارکیٹ امور کے ماہرین کے مطابق، یہ 7 روپے کی کمی صارفین کے لیے کوئی خاص ریلیف نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پولٹری فیڈ‘ کے خام مال پر عائد ٹیکسز اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں کمی لائے بغیر پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں مستقل اور نمایاں کمی ممکن نہیں ہے۔
انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کو ماہرین رسد کی کمی اور فیڈ کے مہنگا ہونے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ پرائس کنٹرول کے طریقہ کار کو جدید اور سخت نہیں بناتی، اس وقت تک سرکاری نرخ ناموں کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتا۔