خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے خدشات کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی لاہور میں موجودگی نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ گزشتہ روز لاہور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران پنجاب پولیس کے ساتھ تنازع کا بھی شکار ہوئے جبکہ صوبے کے متعدد علاقوں میں بارش اور ممکنہ سیلاب کے خطرات برقرار ہیں۔
حالیہ موسمی صورتحال میں خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے الرٹس کے مطابق صوابی، مردان، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، دیر، بونیر، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت متعدد علاقوں میں شدید بارش کے نتیجے میں شہری سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
خصوصاً صوابی اور ملحقہ علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری اور دیہی آبادیوں کیلئے خطرات بڑھتے رہے ہیں۔ رواں مون سون میں صوابی میں شدید بارش کے باعث عمارتیں متاثر ہونے، فلیش فلڈ اور لوگوں کے ریسکیو کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔ اگست میں ٹوپی، صوابی میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے دو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو 1122 نے تقریباً 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔
حالیہ بارشوں کے حوالے سے خدشہ صرف صوابی تک محدود نہیں۔ پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کے نشیبی علاقوں میں بھی شہری سیلاب کا خطرہ بارہا ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بالائی اضلاع میں شدید بارش کے ساتھ ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات موجود ہیں۔
ایسی صورتحال میں سب سے بڑا سوال صوبائی حکومت کی فیلڈ میں موجودگی اور ہنگامی انتظامات کا ہے۔ بارش اور سیلاب کی صورت میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، محکمہ آبپاشی، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان فوری رابطہ، نشیبی علاقوں سے بروقت انخلا، سڑکوں کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں تک امداد کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور میں موجودگی بھی سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کے لاہور کے دورے کے دوران پولیس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں خود وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ انہیں حراست میں لیا گیا اور بعد میں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا، جبکہ پنجاب حکومت نے اس دعوے کی تردید کی۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واقعے کو مختلف انداز میں بیان کیا۔
وزیراعلیٰ کی لاہور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران خیبرپختونخوا میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی صورتحال نے ان کی ترجیحات کے حوالے سے سوالات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال میں صوبے کے وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح متاثرہ علاقوں کی نگرانی، انتظامیہ کو متحرک کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہونی چاہیے۔
تاہم دوسری طرف صوبائی حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاسکتا ہے کہ انتظامی مشینری، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے وزیراعلیٰ کی جسمانی موجودگی کے بغیر بھی اپنے معمول کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ اصل امتحان اس بات کا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں کتنی مؤثر ہیں اور شہریوں کو بروقت مدد مل رہی ہے یا نہیں۔
خیبرپختونخوا میں پہلے بھی شدید بارشوں کے دوران مکانات کو نقصان، سڑکوں کی بندش، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ جولائی 2026 میں بھی PDMA کے مطابق شدید بارشوں سے لوئر چترال، ہری پور اور شانگلہ میں فلیش فلڈ آئے جبکہ متعدد اضلاع میں مکانات اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
موجودہ صورتحال میں شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں سے قطع نظر بارش سے متاثرہ علاقوں پر فوری توجہ دے ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرے، نشیبی آبادیوں میں نکاسی آب کا مؤثر انتظام کرے، ریسکیو ٹیموں اور بھاری مشینری کو حساس مقامات پر تعینات رکھے اور ممکنہ سیلاب کی صورت میں متاثرین کیلئے پیشگی انتظامات مکمل کرے۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے اور مزید بارش کی پیش گوئی کے باعث آنے والے گھنٹے اہم قرار دیے جارہے ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ شدید بارش اور سیلاب کے خطرے سے دوچار عوام کو حکومت کی عملی موجودگی اور فوری ریلیف کب اور کس شکل میں ملتا ہے؟