خلاء میں الٹراساؤنڈ کا انوکھا تجربہ، ناسا خلا باز نے طریقہ بتادیا

خلاء میں الٹراساؤنڈ کا انوکھا تجربہ، ناسا خلا باز نے طریقہ بتادیا

خلاء میں موجود خلا باز صرف سائنسی تجربات ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی صحت کی نگرانی کیلئے بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ اب امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا سے وابستہ خلا باز انیل مینن نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے الٹراساؤنڈ کرنے کا دلچسپ تجربہ شیئر کیا ہے۔

انیل مینن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ خلاء میں الٹراساؤنڈ کا عمل زمین سے کافی مختلف انداز میں انجام دیا جاتا ہے۔ اس کیلئے ایک شخص مشین چلاتا ہے جبکہ دوسرا شخص اس کے کنٹرولز سنبھالتا ہے

انہوں نے بتایا کہ ایک ریموٹ گائیڈر اور ڈاکٹروں کی ٹیم بھی اس عمل میں شامل ہوتی ہے۔ یہ ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جسم کے مطلوبہ حصے کی درست تصاویر حاصل ہوں اور ان تصاویر کا فوری تجزیہ بھی کیا جائے۔ اگر تصاویر سے کسی مزید طبی جانچ کی ضرورت محسوس ہو تو ماہرین اسی وقت اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں

یہ بھی پڑھیں:ایپل کا پاکستانی صارفین کیلئے بڑا تحفہ، آئی کلاوڈ پلس جلد دستیاب

خلا میں خون جمنے کا خطرہ

خلا میں طبی نگرانی کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ مائیکرو گریوٹی انسانی جسم میں خون کے معمول کے بہاؤ کو متاثر کرسکتی ہے۔ انیل مینن کے مطابق سائنسدانوں اور طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ مائیکرو گریوٹی کی وجہ سے خلا بازوں میں خون جمنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے خلا میں الٹراساؤنڈ جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال خلا بازوں کی صحت پر نظر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ تجربہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طبی تحقیق کیلئے خلا باز، ڈاکٹرز اور زمین پر موجود ماہرین جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کس طرح ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

خلا میں کیے جانے والے ایسے طبی تجربات مستقبل میں طویل خلائی مشنز کیلئے بھی اہم ثابت ہوسکتے ہیں، جہاں زمین سے دور رہنے والے خلا بازوں کو اپنی صحت کی نگرانی کیلئے جدید اور قابل اعتماد نظام کی ضرورت ہوگی۔

editor

Related Articles