ملائیشیا نے اسرائیلی فوج کی سپلائی لائن کاٹنے کا بڑا اعلان کر دیا

ملائیشیا نے اسرائیلی فوج کی سپلائی لائن کاٹنے کا بڑا اعلان کر دیا

ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اسرائیلی فوج کے لیے بھیجے جانے والے سامان کی اپنے ملک سے ترسیل پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملائیشیا فلسطینیوں پر مظالم میں کسی صورت معاون نہیں بنے گا۔

ملائیشیا کی حکومت نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک انتہائی سخت اور عملی قدم اٹھایا ہے۔ ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی بیان میں ملکی پالیسی کو واضح کیا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ملائیشیا کی سرزمین اور سمندری حدود کو ایسی کسی بھی کھیپ کی منتقلی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جس کا مقصد اسرائیلی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک فلسطینیوں سمیت دیگر بے گناہ افراد کے خلاف ہونے والے مظالم کا نہ تو حصہ بنے گا اور نہ ہی اس میں کوئی کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ملائیشیا کے وزیراعظم کا پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے سے انکار، ’’پاکستان ریاست دہشت گردی سے منسلک نہیں‘‘، انور ابراہیم

حکومتِ ملائیشیا نے اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ وزیراعظم انور ابراہیم نے متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی مشتبہ کھیپ کو ملائیشین قانون کے تحت کڑی جانچ پڑتال اور تحقیقات کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

اگر تحقیقات کے دوران خلاف ورزی ثابت ہو گئی، تو ملوث عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بندرگاہوں پر پابندی اور حالیہ کارروائی

یہ سخت بیان عالمی مالیاتی اور خبر رساں ادارے ’بلوم برگ‘ کی اس تہلکہ خیز رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملائیشیا کے حکام نے ملک کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہ سے اسرائیل کی جانب جانے والی تمام شپ منٹس کی ترسیل کو ہنگامی بنیادوں پر روک دیا ہے۔

حکام صرف بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ 19 اگست کو ملائیشین حکام نے کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل جانے والے 3 کنٹینرز کو بھی قبضے میں لے کر ان کی ترسیل روک دی تھی۔

ملائیشیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی یا تجارتی سطح پر کوئی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ ملائیشیا روایتی طور پر فلسطین کے کاز کا ایک مضبوط حامی رہا ہے اور بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی وکالت کرتا آیا ہے۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد سے ملائیشیا کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی رہی ہے، اور اب یہ تجارتی و سفری پابندی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔

بین الاقوامی تعلقات اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق، ملائیشیا کا یہ اقدام محض ایک علامتی احتجاج نہیں بلکہ اسرائیلی معیشت اور ملٹری لاجسٹکس کے لیے ایک عملی دھچکا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا عالمی تجارت کا ایک اہم روٹ ہے، اور ملائیشیا کی جانب سے سپلائی لائن کاٹے جانے سے اسرائیل تک سامان کی ترسیل مہنگی اور تاخیر کا شکار ہوگی۔

مزید برآں، یہ فیصلہ دیگر مسلم اکثریتی اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے کہ وہ بھی اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے محض بیانات کے بجائے عملی طور پر اپنی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں تک اس کی رسائی کو محدود کریں۔ یہ عالمی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔

Related Articles