ایران جنگ پر کانگریس اور امریکی وزیر دفاع آمنے سامنے، مواخذے کی قرارداد پیش

ایران جنگ پر کانگریس اور امریکی وزیر دفاع آمنے سامنے، مواخذے کی قرارداد پیش

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے کے الزامات نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ایک نئے سیاسی اور آئینی تنازع میں ڈال دیا ہے، جہاں ری پبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ان کے خلاف مواخذے کی آٹھ دفعات پر مشتمل قرارداد پیش کردی ہے۔

تھامس میسی نے الزام عائد کیا ہے کہ ہیگستھ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر کانگریس کے آئینی جنگی اختیارات اور 1973 کی وار پاورز ریزولوشن کی خلاف ورزی کی۔ میسی کے مطابق ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں کانگریس کی جانب سے جنگ کی باقاعدہ منظوری کے بغیر جاری رہیں۔

مواخذے کی قرارداد ’’پرولیجڈ‘‘ حیثیت کے ساتھ پیش کی گئی ہے، جس کے باعث ایوان نمائندگان کو اسے مقررہ مدت میں زیر غور لانا ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق ایوان کو دو قانون ساز دنوں کے اندر اس قرارداد پر کارروائی کرنا ہوگی، اگرچہ ری پبلکن قیادت اسے مسترد یا مؤخر کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

ایران جنگ مواخذے کا مرکزی نکتہ

میسی کی جانب سے پیش کی گئی پہلی تین دفعات کا بنیادی تعلق ایران جنگ سے ہے۔ ان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہیگستھ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں جاری رکھیں کانگریس کی جانب سے امریکی فوجی دستے واپس بلانے سے متعلق اقدام کو نظر انداز کیا اور وار پاورز ریزولوشن میں مقررہ مدت گزرنے کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رہنے دیں۔

میسی کا مؤقف ہے کہ کانگریس کی جانب سے جنگ کی باقاعدہ منظوری نہ ہونے کے باوجود ایران میں فوجی کارروائیوں کا تسلسل آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ یہ الزامات فی الحال مواخذے کی قرارداد میں پیش کیے گئے الزامات ہیں جن پر کانگریس میں بحث اور ووٹنگ ہونا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فوجی طاقت مسائل کا حل نہیں، چین نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

عہدے کے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام

مواخذے کی دیگر دفعات میں ہیگستھ پر اپنے عہدے کے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

میسی نے ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے منشیات اسمگلنگ کے شبہے میں سمندری جہازوں کے خلاف مہلک فوجی کارروائیوں، سینیٹر مارک کیلی کے خلاف پینٹاگون کی کارروائی، وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور یمن میں فوجی کارروائیوں میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

آٹھویں دفعہ میں یمن میں امریکی فوجی آپریشن سے متعلق الزامات شامل ہیں جبکہ ایک الگ دفعہ میں شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے سے متعلق قوانین کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قرارداد میں سینیٹر مارک کیلی کے خلاف کارروائی کو بھی آئینی طور پر محفوظ اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

ایران جنگ کی بھاری قیمت بھی زیر بحث

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے مالی اور عسکری اثرات بھی امریکی کانگریس میں شدید بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔

تازہ کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست 2026 تک ایران جنگ پر امریکی محکمہ دفاع کے اخراجات 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے تھے جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ اخراجات مزید تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں جنگ کے نتیجے میں مہنگائی پر بھی اضافی دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسی دوران امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں جنگ کے ابتدائی چار ماہ کے اخراجات تقریباً 33 ارب 40 کروڑ ڈالر بتائے گئے تھے جس میں بڑی رقم جنگی سازوسامان اور گولہ بارود پر خرچ ہوئی۔ بعد کی مجموعی لاگت کے اعداد و شمار اس سے زیادہ ہوچکے ہیں۔

کانگریس میں جنگی اختیارات پر بڑا تنازع

ایران جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس اور انتظامیہ کے درمیان جنگی اختیارات کا تنازع پہلے بھی سامنے آچکا ہے۔ ایوان نمائندگان نے اس سے قبل بھی ایسے اقدامات پر غور کیا جن کا مقصد صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنا تھا تاہم متعدد کوششیں سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکیں۔

15 ستمبر کو ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے سے متعلق ایک اور وار پاورز قرارداد بھی 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور کی۔ اس پیش رفت کے بعد ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی نے کانگریس میں جنگی اختیارات کے معاملے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

مواخذے کی قرارداد منظور ہونے کے امکانات کم

خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر امریکی ذرائع کے مطابق ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ایوان نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ تاہم قرارداد کی پرولیجڈ  حیثیت کے باعث اس پر ووٹنگ کا مرحلہ اہم سیاسی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

اس ووٹنگ میں ارکانِ کانگریس کو ایران جنگ اور وزیر دفاع کے کردار کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرنا پڑ سکتا ہے یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ایران جنگ کی معاشی لاگت ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر اس کے اثرات بھی سیاسی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔

پینٹاگون نے ہیگستھ کی حمایت کردی

دوسری جانب پینٹاگون نے وزیر دفاع کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے محکمہ دفاع کی ترجمان کنگزلی ولسن نے کہا کہ محکمہ ہیگستھ کے وژن کے ساتھ متحد ہے اور امریکی فوجیوں اور ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے کام جاری رکھے گا۔

یوں پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی تازہ کوشش فوری طور پر ان کی برطرفی کا فیصلہ نہیں، تاہم ایران جنگ کے حوالے سے ان کے کردار، امریکی صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی اختیار پر ایک اہم سیاسی و آئینی محاذ ضرور کھولتی ہے۔

تھامس میسی کی قرارداد اب امریکی ایوان نمائندگان کے سامنے ہے اور آئندہ کارروائی اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ معاملہ محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتا ہے یا کانگریس میں ہیگستھ کے خلاف مزید باضابطہ کارروائی کی طرف بڑھتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles