مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی تیل کی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ،امریکا و ایران کی جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اہم تیل انفرااسٹرکچر پر حملوں کے بعد خام تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھے تو عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بھی اوپر چلی گئیں ، یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہوگئی جب سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش نے عالمی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھا دی۔
دوسری جانب خلیج میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے کی کوششیں بھی تاحال واضح نتائج نہیں دے سکیں۔
خام تیل کی قیمت کہاں پہنچ گئی؟
آج منگل کو ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 108.6 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 104.25 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی دوران اماراتی مربن خام تیل 123.8 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ یوں مختلف عالمی بینچ مارکس میں قیمتوں کا اضافہ تیل کی عالمی سپلائی کے بارے میں بڑھتے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
سپلائی میں رکاوٹ کا خدشہ کیوں بڑھ گیا؟
پائپ لائن کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ موجودہ صورتحال تیل کی دستیابی کو کس حد تک متاثر کرسکتی ہے ، مزید یہ کہ خلیج میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اگر سپلائی سے متعلق خدشات مزید گہرے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف عالمی تیل مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کتنی دیر تک برقرار رہتی ہے اور تیل کی عالمی سپلائی معمول پر آنے میں کتنا وقت لگتا ہے، صورتحال میں بہتری آتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے، تاہم سپلائی میں مزید رکاوٹ عالمی منڈی کیلئے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
پاکستان کی صورتحال
دوسری جانب پاکستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 415 روپے 83 پیسے اور پیٹرول کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔