چین کے وزیر دفاع ڈونگ جن نے کہا ہے کہ علاقائی ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے جبکہ اشتعال انگیز اقدامات اور فوجی طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے بجائے بات چیت تعاون اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
بیجنگ میں جاری شیانگ شان فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونگ جن نے کہا کہ چینی فوج علاقائی استحکام اور امن کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور ان کی اپنی مرضی کا احترام کیا جائے۔
چینی وزیر دفاع نے کہا کہ فوجی طاقت مسائل کا حل نہیں نکال سکتی جبکہ ظلم زبردستی اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک یا گروہ کو اپنے مفادات کے لیے خطے کے مجموعی مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ڈونگ جن نے کہا کہ چین ایک مستحکم قوت کے طور پر کشیدگی اور دشمنی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے تعاون اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ چین دیگر ممالک کی افواج کے ساتھ اپنے فوجی تعمیر و تشکیل کے تجربات بھی شیئر کرے گا اور مناسب معاونت فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق مشترکہ فوجی مشقوں عملے کی تربیت، سازوسامان اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی فوجی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
چینی وزیر دفاع نے عالمی نظام کے حوالے سے کہا کہ دنیا کو زیادہ مساوی اور منظم کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھنا چاہیے انہوں نے کثیر الجہتی نظام کی پاسداری اور تمام ممالک کے جائز سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔
ڈونگ جن کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے بالادستی عسکریت پسندی اور تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق ازسرنو پیش کرنے کے رجحانات سے محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے مجموعی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے ممالک کو ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
شیانگ شان فورم میں مختلف ممالک کے فوجی حکام، سفارت کار اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تائیوان بحیرہ جنوبی چین اور ایشیا میں امریکی سکیورٹی کردار سمیت متعدد معاملات پر علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔
چینی وزیر دفاع کے خطاب میں براہ راست کسی ایک ملک کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم ان کے ریمارکس میں بیرونی فوجی مداخلت بالادستی اور اشتعال انگیزی کے خلاف چین کا دیرینہ مؤقف نمایاں رہا۔ عالمی نظام میں زیادہ مساوات خودمختاری کے احترام اور کثیر قطبی نظام کی حمایت بھی ان کے خطاب کا اہم حصہ تھی۔
ڈونگ جن نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ چین علاقائی امن و استحکام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ دفاعی اور فوجی تعاون کو جاری رکھے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کے معاملات میں طاقت کے استعمال کے بجائے باہمی احترام مذاکرات اور مشترکہ تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔