ایران جنگ جلد نئے مرحلے میں داخل ہوگی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

ایران جنگ جلد نئے مرحلے میں داخل ہوگی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

 امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران جنگ جلد نئے مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مستقبل کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، تاہم امریکی صدر کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ جنگ چند ماہ میں ایک بہت مختلف مرحلے میں داخل ہوگی۔

جنگ کتنے مراحل پر مشتمل

جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ کے بنیادی طور پر 2 مراحل ہیں اور پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، پہلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام ، روایتی فوج اور اس کی طاقت کو بیرون ملک استعمال کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا شامل تھا، جس کے ذریعے تہران چند سال پہلے تک طاقت کا اظہار کرنے کے قابل تھا۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ جنگ کے دوسرے مرحلے میں اس بات کو یقینی بنانا شامل ہوگا کہ تہران اپنی صلاحیتیں دوبارہ تعمیر نہ کر سکے، جبکہ جنگ کے بعد عالمی استحکام کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

پینٹاگون واچ ڈاگ کی رپورٹ

دوسری جانب میڈیا رپورٹ کے مطابق پینٹاگون واچ ڈاگ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو اسلحے اور گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ کے مالی اورعسکری نقصانات سے متعلق امریکی وزارتِ دفاع کے انسپکٹرجنرل نے پہلی باضابطہ تفصیلی رپورٹ جاری کردی ، امریکا اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ کے مالی اورعسکری نقصانات سے متعلق امریکی وزارتِ دفاع کے انسپکٹرجنرل نے پہلی باضابطہ تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق جون کےاختتام تک جنگ پرامریکا کے 33 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد اخراجات آچکے ہیں،22 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد کے ہتھیار اور بم استعمال کیے گئے، جبکہ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کے آلات اور طیارے مکمل طور پر تباہ یا ضائع ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : علم نہیں ایران جنگ مڈٹرم الیکشنز تک ختم ہوگی یا نہیں ، جے ڈی وینس

عسکری آلات کےنقصانات کی تفصیل بتاتےہوئےرپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک 50 سے زائد امریکی طیارے اور ڈرونز تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں،جن میں چار ایف 15 ای جنگی طیارے،ایک ایف 35 اے، ایک اے 10 وارٹ ہاگ، 12 کےسی 135 ری فیولنگ طیارے اورکم ازکم 30 بڑےایم کیونائن ریپرڈرونزشامل ہیں،مسلسل جنگ کے باعث امریکی فوج کوگولہ بارود کی شدید کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

اس کےبرعکس امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےدعوی کیا ہے کہ امریکا اپنی تاریخ کے بہترین اوراعلیٰ ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پرمشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں امریکی افواج کوفراہم کیے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles