دنیا کے سرد ترین اور سخت ترین خطوں میں زندگی گزارنا کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن انٹارکٹیکا میں پایا جانے والا ایک ننھا سا کیڑا ایسی حیران کن صلاحیتیں رکھتا ہے کہ اس کی زندگی کی کہانی کسی سائنس فکشن فلم کا منظر محسوس ہوتی ہے۔
اس جاندار کو ’مڈج‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی صرف 2 سے 6 ملی میٹر ہوتی ہے اور رنگ گہرا بھورا ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ انٹارکٹیکا کا واحد مستقل مقامی کیڑا ہے اور اس برفانی براعظم کی خشکی پر پایا جانے والا سب سے بڑا خالص زمینی جاندار بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ننھے کیڑے کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس کےپر ہی نہیں ہوتے۔
انٹارکٹیکا میں چلنے والی انتہائی تیز ہواؤں کے باعث پر ہونا اس کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔ اگر یہ اڑ سکتا تو تیز ہوائیں اسے محفوظ جگہ سے اٹھا کر کھلے سمندر یا برفانی علاقوں میں پھینک سکتی تھیں۔ اسی لیے ارتقائی عمل کے دوران اس میں پر ختم ہوگئے اور یہ زمین، کائی اور چٹانوں کی دراڑوں میں رہنے کے قابل ہوگیا۔
لیکن اصل حیرت اس کی زندگی کے دورانیے میں چھپی ہے۔ یہ ننھا جاندار اپنی زندگی کا تقریباً دو سالہ عرصہ لاروا کی شکل میں شدید سردی اور برف کے نیچے گزارتا ہے۔ اس دوران یہ کائی، نامیاتی مادے اور پرندوں کے فضلے سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔
شدید سردی سے بچنے کے لیے اس کا جسم ایسے کیمیائی مادے پیدا کرتا ہے جو اسے منجمد ہونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے جسم میں گلیسرول جیسے مادے اور مخصوص ہیٹ شاک پروٹینز خلیات کو انتہائی کم درجہ حرارت کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کی بقا کی ایک اور حیران کن صلاحیت پانی کی شدید کمی برداشت کرنا ہے۔ یہ اپنے جسم کے تقریباً 70 فیصد پانی سے محروم ہونے کے باوجود زندہ رہ سکتا ہے۔ ماحول میں نمی واپس آنے پر یہ دوبارہ پانی جذب کرکے اپنی سرگرمیاں بحال کرلیتا ہے۔
پھر تقریباً 2 سال کے طویل انتظار کے بعد انٹارکٹیکا میں مختصر موسم گرما آتا ہے اور یہ لاروا بالغ کیڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں کہانی کا سب سے عجیب حصہ شروع ہوتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد اس کے منہ کے حصے فعال نہیں رہتے، اس لیے یہ کھانا پینا نہیں سکتا۔ اس کے جسم میں پہلے سے محفوظ توانائی ہی اس کے باقی ماندہ مختصر سفر کا سہارا بنتی ہے۔
اور یہ سفر صرف چند دن کا ہوتا ہے۔ بالغ مڈج تقریباً 7 سے 10 دن تک زندہ رہتا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کا بنیادی مقصد ساتھی تلاش کرنا، جفتی کرنا اور اگلی نسل کے لیے انڈے دینا ہوتا ہے۔ نسل آگے بڑھانے کے فوراً بعد اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے، جبکہ اس کی اگلی نسل دوبارہ اسی سخت امتحان کا سامنا کرنے کے لیے دو سالہ لاروا مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے۔
یوں ایک ایسا کیڑا جو چند ملی میٹر سے زیادہ بڑا نہیں، اپنی زندگی کا بیشتر حصہ برف کے نیچے گزارتا ہے، بالغ ہونے کے بعد کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور صرف چند دنوں میں اپنی نسل آگے بڑھا کر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
انٹارکٹیکا کا یہ عجیب و غریب مڈج اس بات کی حیرت انگیز مثال ہے کہ زندگی انتہائی ناموافق ماحول میں بھی خود کو زندہ رکھنے کے راستے تلاش کرلیتی ہے۔