روس کے خریدار ممالک بھی نشانے پر،امریکا میں پابندیوں کے قوانین کی منظوری

روس کے خریدار ممالک بھی نشانے پر،امریکا میں پابندیوں کے قوانین کی منظوری

امریکی ایوان نمائندگان کی رولز کمیٹی نے روس کے خلاف پابندیاں مزید سخت کرنے سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے دی  جس کے بعد بل کو ایوان میں بحث اور ووٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا۔

بل ایوان نمائندگان کو منتقل

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق رولز کمیٹی میں بل پر غور کے طریقہ کار کی منظوری کے لیے سات ارکان نے حمایت میں جبکہ تین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

کمیٹی نے حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم بھی مسترد کردیں، جس کے بعد قانون سازی کو ایوان نمائندگان میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔

حتمی منظوری کا مرحلہ باقی

رپورٹس کے مطابق ایوان نمائندگان میں بل پر بحث اور ابتدائی طریقہ کار سے متعلق ووٹنگ کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی مرحلہ مکمل ہونے کی صورت میں حتمی ووٹنگ بھی کرائے جانے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :فوجی اخراجات میں اضافہ ،امریکی ایوانِ نمائندگان میں 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور

امریکی سینیٹ اس قانون سازی کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

روسی حکام پر پابندیوں کی تجویز

مجوزہ قانون میں روس کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی حکام کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

اس کے علاوہ روس کی سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کے دائرے میں لانے کی تجویز شامل ہے۔

روس کے تجارتی شراکت دار بھی زد میں

قانون سازی میں روس کے ساتھ تجارت کرنے والے بعض ممالک پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :امریکی سینیٹ میں ایران جنگ سےمتعلق اہم قراردار منظور

مجوزہ قانون کے تحت امریکا کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر سو فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔

ایران سے متعلق بھی اقدامات شامل

بل میں ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے سے متعلق اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

یہ قانون سازی روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ان ممالک کو بھی متاثر کرسکتی ہے جو روس کے ساتھ توانائی اور تجارتی معاملات جاری رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles