ایران جنگ پر ٹرمپ کو بڑا چیلنج، امریکی ایوان نے تیسری بار قرارداد منظور کرلی

ایران جنگ پر ٹرمپ کو بڑا چیلنج، امریکی ایوان نے تیسری بار قرارداد منظور کرلی

  امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے ساتھ جاری جنگ روکنے سے متعلق قرارداد تیسری بار منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 220 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 204 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔

قرارداد عراق جنگ کے دوران امریکی میرین کے طور پر خدمات انجام دینے والے اور موجودہ رکن کانگریس سیتھ مولٹن نے پیش کی۔ قرارداد میں امریکی فوجی کارروائی کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرنے کی بات کی گئی ہے۔

سیتھ مولٹن کا ٹرمپ انتظامیہ پر سوال

قرارداد پیش کرتے ہوئے سیتھ مولٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ سے متعلق سابقہ مؤقف کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ صرف چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔

 یہ بھی پڑھیں:سلامتی کونسل میں سپر پاورز آمنے سامنے: امریکہ نے روس کی جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی

مولٹن نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے حوالے سے سخت سوالات کیے جائیں اور امریکی انتظامیہ کی عسکری پالیسی پر بحث کی جائے۔ ان کے مطابق کانگریس کو ایک اور جنگ کے حوالے سے انتظامیہ کے اقدامات پر سوال اٹھانے چاہئیں۔

فوجی کارروائی کانگریس کی منظوری سے مشروط

منظور ہونے والی قرارداد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کیا جائے۔ اس طرح قرارداد کا بنیادی مقصد جنگ سے متعلق صدارتی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار کے حوالے سے بحث کو آگے بڑھانا ہے۔

ایوان نمائندگان کی جانب سے قرارداد منظور کیے جانے کے باوجود اس کا فوری طور پر جنگ روکنے کا فیصلہ بن جانا ضروری نہیں۔ قرارداد کے آئندہ قانونی اور سیاسی مراحل بھی اہم ہوں گے۔

 ری پبلکن ارکان نے قرارداد کی حمایت کردی

اس بار پہلے کے مقابلے میں مزید ری پبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اب تک ایسی کوئی قرارداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں بھیجی گئی۔

 یہ بھی پڑھیں :فوجی اخراجات میں اضافہ ،امریکی ایوانِ نمائندگان میں 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر ایوان نمائندگان میں دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان کے درمیان مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت نے قرارداد کی منظوری میں کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ کو ویٹو کا اختیار حاصل ہوگا

اگر قرارداد وائٹ ہاؤس بھیجی جاتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اسے ویٹو کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے بعد قرارداد کے مستقبل کا انحصار کانگریس میں مزید کارروائی اور آئینی طریقہ کار پر ہوگا۔

ایران جنگ کے معاملے پر امریکی کانگریس میں ہونے والی یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی عسکری پالیسی پر قانون سازوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles