یورپی یونین کا سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان، برطانیہ، کینیڈا کو شامل کرنے کی تجویز

یورپی یونین کا سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان، برطانیہ، کینیڈا کو شامل کرنے کی تجویز

  یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے یورپی سلامتی کے لیے ایک نئی سکیورٹی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے جس میں یورپی یونین کے ارکان کے ساتھ برطانیہ، کینیڈا، ناروے، یوکرین اور دیگر شراکت دار ممالک کو شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ارسلا واندرلین نے یہ اعلان یورپی پارلیمنٹ میں اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یورپ کو ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مربوط اور مؤثر طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

ہائبرڈ حملوں سے نمٹنے کے لیے نیا نظام

یورپی کمیشن کی صدر نے یورپ کے لیے ایک نئے ہنگامی سکیورٹی پروٹوکول کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کا مقصد ایسے واقعات کی صورت میں یورپی ممالک کے درمیان فوری مشاورت اور مشترکہ ردعمل کو مربوط کرنا ہے جو روایتی جنگ یا مسلح حملے کی سطح تک نہ پہنچتے ہوں لیکن قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔

 یہ بھی پڑھیں :فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا،سوشل میڈیا اور موبائل فون پر بڑی پابندی

ان واقعات میں سائبر حملے، تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی دراندازی جیسے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔ واندرلین نے کہا کہ یورپ کو ایسے خطرات کے مقابلے کے لیے اپنا مربوط لائحہ عمل درکار ہے۔

تجویز کردہ طریقہ کار کے تحت اگر کوئی رکن ملک ہائبرڈ نوعیت کے بڑے خطرے کا سامنا کرے تو دیگر یورپی ممالک کو مشاورت کے لیے اکٹھا کیا جا سکے گا۔ مقصد ممکنہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور متاثرہ ملک کے ساتھ مشترکہ ردعمل کو مربوط کرنا ہوگا۔

برطانیہ، کینیڈا اور یوکرین کی شمولیت کی تجویز

مجوزہ یورپی سکیورٹی کونسل میں صرف یورپی یونین کے رکن ممالک کو شامل کرنے کے بجائے بیرونی شراکت داروں کے لیے بھی جگہ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ارسلا واندرلین نے برطانیہ، کینیڈا، ناروے اور یوکرین سمیت دیگر ممالک کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

اس تجویز کا مقصد یورپی براعظم کی سلامتی سے متعلق معاملات پر مختلف شراکت دار ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مشاورت کا ایک مستقل فورم تشکیل دینا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر کے مطابق ان شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی ضرورت موجودہ خطرات کے تناظر میں مزید اہم ہوگئی ہے۔

روس سے منسوب ہائبرڈ سرگرمیوں کا معاملہ

یورپی حکام کی جانب سے حالیہ برسوں میں ہائبرڈ خطرات میں اضافے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ ان میں تخریب کاری، سائبر حملے، اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں اور ڈرونز سے متعلق واقعات شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی نائب صدر،ملائشیا کے وزیرخارجہ کو فون، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

یورپی یونین کی کونسل نے مارچ 2026 میں بھی ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے سے متعلق سفارشات منظور کی تھیں۔ اس وقت یونین نے تخریب کاری، سائبر سرگرمیوں، غیر ملکی معلوماتی مداخلت اور دیگر ہائبرڈ کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور روس اور اس کے اتحادیوں پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔

تاہم ہر واقعے میں ذمہ داری کا تعین الگ شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہائبرڈ واقعات سے متعلق کسی بھی مخصوص الزام کو متعلقہ حکام کے مؤقف اور دستیاب شواہد کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

نیٹو کے ساتھ تعلقات کا معاملہ

یورپی سکیورٹی کونسل کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیت اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یورپی کونسل پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ یورپی یونین کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ نیٹو کے ساتھ تعاون کے متبادل کے بجائے اس کی تکمیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles