کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا اور یورپ کے درمیان مزید مضبوط اور قریبی شراکت داری قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینڈین وزیر اعظم نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ایسوسی ایٹ رکن بنانے سے متعلق تجویز کا خیرمقدم کیا۔
مارک کارنی نے کہاہے کہ بدلتی عالمی صورتحال میں کینیڈا اور یورپ کو مل کر اپنی معاشی اور سیاسی طاقت میں اضافہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا اور یورپ الگ الگ بھی مضبوط ہیں، تاہم دونوں مل کر زیادہ مضبوط بن سکتے ہیں
کینیڈا اور یورپ کا مضبوط تعاون ناگزیر
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا اور یورپ کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق دونوں فریق مشترکہ اقدار اور مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کے آٹو ٹیرف کو ملک پر ;براہ راست حملہ قرار دیدیا
مارک کارنے نے واضح کیا کہ کینیڈا یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض علامتی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اس شراکت داری کے عملی فوائد پر توجہ ضروری ہے۔
ایسوسی ایٹ رکنیت کی تجویز کی حمایت
مارک کارنے نے یورپی یونین سے متعلق ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی تجویز پر مثبت ردعمل دیا۔
اگرچہ انہوں نے اپنی تقریر میں براہ راست ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز میں موجود عزائم قابل قدر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تعلقات کو کس شکل میں آگے بڑھایا جائے گا، اس کا فیصلہ یورپی یونین کرے گی۔
امریکا اور چین کے خلاف بلاک بنانے کی تردید
کینیڈین وزیراعظم نے واضح کیا کہ کینیڈا یورپ کے ساتھ مل کر امریکا اور چین کے مقابلے میں کسی تیسرے طاقتور بلاک کی تشکیل نہیں کر رہا۔
ان کے مطابق کینیڈا اور یورپ کے درمیان قریبی تعلقات کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں ہے۔
مارک کارنے نے کہا کہ اصل مقصد ایسی مشترکہ مضبوطی پیدا کرنا ہے جس سے کینیڈا اور یورپ اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات کا بہتر تحفظ کرسکیں۔
کھلی منڈیوں اور خودمختاری کا تحفظ
مارک کارنے کے مطابق مضبوط کینیڈا اور مضبوط یورپ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ کوئی ملک ان کی کھلی منڈیوں کو اپنے کنٹرول میں نہ لے سکے۔
انہوں نے علاقائی سالمیت کے تحفظ اور سیاسی آزادی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری اقدار اور آزادیوں کو کمزور ہونے سے بچانا بھی اس تعاون کا اہم مقصد ہونا چاہیے۔
معاہدے کے نام سے زیادہ عملی فائدہ اہم
یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنے نے کہا کہ مستقبل کے تعلقات کو کیا نام دیا جائے گا، یہ فیصلہ یورپی یونین کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس کے نام سے زیادہ اہم اس کا عملی مفاد اور مواد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ،خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال


