فیول ریلیف اسکیم پر ڈیلرز اور حکومت آمنے سامنے، آج فیصلہ کن مذاکرات ہوں گے

فیول ریلیف اسکیم پر ڈیلرز اور حکومت آمنے سامنے، آج فیصلہ کن مذاکرات ہوں گے

وزیراعظم شہباز شریف کی فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات کے بعد حکومت نے معاملہ حل کرنے کیلئے اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔ وزارت پٹرولیم کے زیر اہتمام اجلاس آج شام 4 بجے اسلام آباد میں ہوگا جس کی صدارت وزیر پٹرولیم کریں گے، جبکہ پیٹرولیم ڈیلرز اور مالکان کے نمائندوں سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اجلاس میں وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم پیٹرول پمپس کو واپس ادا کرنے کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ یہ اجلاس اس وقت طلب کیا گیا ہے جب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت سبسڈی کی رقم کی واپسی کا قابلِ اعتماد اور شفاف طریقہ کار طے نہیں کرتی، ڈیلرز اسکیم پر عملدرآمد کیلئے تیار نہیں۔

حکومت نے حالیہ فیول ریلیف اسکیم کے تحت اہل موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ صارف کو پٹرول رعایتی نرخ پر فراہم کرنے کے بعد اس رعایت کی رقم پٹرول پمپ ڈیلر کو واپس کون ادا کرے گا، کس نظام کے تحت ادا کرے گا اور کتنے عرصے میں ادا کرے گا، اس بارے میں ڈیلرز نے واضح ضمانت مانگی ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پہلے اپنی جیب سے رعایت برداشت کرنا پڑی اور رقم کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو ان کا سرمایہ کاروبار میں پھنس جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا تعلیمی منصوبہ، دانش یونیورسٹی میں مفت تعلیم

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدام کو اصولی طور پر سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کو سستا پٹرول دینے کے خلاف نہیں، تاہم ایسا طریقہ کار قبول نہیں کیا جاسکتا جس میں مالی بوجھ پٹرول پمپ مالکان پر منتقل ہوجائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے اسکیم تیار کرنے سے قبل ڈیلرز سے مناسب مشاورت نہیں کی۔

ڈیلرز کی جانب سے بنیادی طور پر تین سوالات اٹھائے گئے ہیں: رعایت کی رقم کون ادا کرے گا، کس ادارے کے ذریعے ادا کرے گا اور کتنے وقت میں ادائیگی ہوگی؟

PPDA کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ پہلے ہی محدود مارجن پر کام کرتے ہیں، اس لیے اگر سبسڈی کی رقم کی ادائیگی کا واضح اور فوری نظام نہ ہو تو بڑی تعداد میں ڈیلرز کے ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے ماحول میں اضافی مالی بوجھ ڈیلرز کیلئے مزید مشکل پیدا کرسکتا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سبسڈی کی رقم کی واپسی کیلئے باقاعدہ، تحریری اور قابلِ اعتماد طریقہ کار طے کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ادائیگی میں تاخیر نہ ہو اور یہ واضح کیا جائے کہ رقم کس حکومتی ادارے یا مالیاتی نظام کے ذریعے براہ راست ڈیلرز تک پہنچے گی۔

ڈیلرز نے حکومت سے مشاورت کے ذریعے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی، اپنے کاروباری سرمائے کے تحفظ اور سبسڈی کے مالی بوجھ کو پٹرول پمپس پر منتقل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض نمائندوں نے پٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد کرنے اور پٹرول کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کے بجائے ماہانہ بنیاد پر قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ڈیلرز کے تحفظات سامنے آنے کے بعد وزارت پٹرولیم نے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے۔ آج ہونے والے اجلاس میں ڈیلرز کو سبسڈی کی رقم کی واپسی کے مجوزہ نظام کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی اور ان کے اعتراضات سنے جائیں گے۔ وزارت پٹرولیم نے ڈیلرز اور متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے فیول ریلیف اسکیم کے انتظامی پہلوؤں کیلئے سہولت ڈیسک، متعلقہ عملے اور دیگر انتظامات بھی کیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسکیم کا مقصد حالیہ پٹرول قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنا اور کم آمدنی والے طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس اسکیم میں حکومت نے رعایت براہ راست پٹرول کی قیمت میں ایڈجسٹ کرنے کے بجائے مخصوص صارفین کو فیول ریلیف فراہم کرنے کا نظام وضع کیا ہے۔ اس لیے پٹرول پمپ اس پورے نظام میں عملی طور پر اہم کڑی بن جاتے ہیں۔

اگر صارف کو پٹرول رعایتی نرخ پر فراہم کیا جاتا ہے تو پٹرول پمپ کو اصل قیمت اور صارف سے وصول کی گئی رقم کے درمیان فرق واپس ملنا ضروری ہے۔ اسی فرق کی رقم کی ادائیگی کا نظام اب حکومت اور ڈیلرز کے درمیان تنازع کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ ادائیگی کے واضح نظام کے بغیر وہ اپنی ورکنگ کیپیٹل سے مسلسل رعایتی پٹرول فراہم نہیں کرسکتے۔

آج کا اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس میں سبسڈی کی رقم کی ادائیگی، تصدیق، ریکارڈ رکھنے اور رقم کی منتقلی کے طریقہ کار سمیت دیگر انتظامی امور پر غور متوقع ہے۔

ڈیلرز پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر انہیں واضح ادائیگی کا نظام فراہم نہ کیا گیا تو وہ اسکیم میں شامل نہیں ہوں گے اور بعض نمائندوں نے پٹرول پمپس بند کرنے تک کا انتباہ دیا ہے۔

یوں وزیراعظم کی جانب سے عوام کو پٹرول پر ریلیف دینے کیلئے اعلان کردہ اسکیم اب حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان ادائیگی کے طریقہ کار پر اتفاق کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ آج کا اجلاس اس بات کا تعین کرے گا کہ ڈیلرز کے تحفظات کس حد تک دور کیے جاتے ہیں اور ملک بھر میں سستا پٹرول فراہم کرنے کی اسکیم کو کس طریقہ کار کے تحت عملی طور پر جاری رکھا جاتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles