وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا تعلیمی منصوبہ، دانش یونیورسٹی میں مفت تعلیم

وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا تعلیمی منصوبہ، دانش یونیورسٹی میں مفت تعلیم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر معیاری، جدید اور عالمی معیار کی تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، دانش یونیورسٹی ملک بھر کے باصلاحیت نوجوانوں کو جدید تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں یونیورسٹی کے منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت اور وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مختلف ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دانش یونیورسٹی پاکستان کے ہونہار اور مستحق نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق جدید تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی سہولیات کی بدولت یہ ادارہ پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مرکزِ امتیاز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

شہباز شریف نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں داخلوں کیلئے پورے پاکستان سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس کا مقصد مختلف علاقوں سے ایسے طلبہ کو سامنے لانا ہے جو صلاحیت رکھتے ہیں لیکن معیاری جدید تعلیم کے مواقع تک رسائی ان کیلئے آسان نہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف ایس سی اور اے لیول کے دوسرے سال میں زیر تعلیم طلبہ کیلئے دانش یونیورسٹی کے ورچوئل اسکول کا ٹیلنٹ ہنٹ شروع کردیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں کامیاب قرار پانے والے طلبہ کو پانچ ماہ کی کلاسز مکمل طور پر مفت فراہم کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

بریفنگ کے مطابق ورچوئل کلاسز میں داخلے کیلئے ٹیسٹ 24 اکتوبر 2026 کو 40 سے زائد شہروں میں منعقد ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے مختلف علاقوں کے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے اور یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرام سے قبل تیاری کا موقع ملے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں مختلف فیکلٹی آسامیوں کیلئے اب تک 185 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جبکہ بہترین اور باصلاحیت فیکلٹی کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔

یونیورسٹی کے منصوبے کے تحت جدید تدریس کے ساتھ تحقیق اور ٹیکنالوجی کو بھی بنیادی اہمیت دی جارہی ہے تاکہ طلبہ کو روایتی تعلیم کے بجائے مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول فراہم کیا جاسکے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی کی عمارت 2027 میں مکمل ہوجائے گی، جبکہ یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 20 ستمبر 2027 سے ہوگا۔ اس سے قبل طلبہ کو یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کیلئے تیار کرنے کی غرض سے برج پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا۔

برج پروگرام 10 اگست سے 14 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو یونیورسٹی کی باقاعدہ تعلیم شروع ہونے سے قبل ضروری علمی اور تعلیمی تیاری فراہم کرنا ہے۔

دانش یونیورسٹی کے ابتدائی تعلیمی پروگراموں میں بائیو انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی و سماجیات سے متعلق پروگرام شامل ہوں گے۔

ان شعبوں کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یونیورسٹی میں جدید ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور سماجی علوم کے باہمی تعلق پر توجہ دی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس ادارے کو جدید تحقیق اور تکنیکی تعلیم کا مرکز بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

دانش یونیورسٹی کا مجوزہ تعلیمی ماڈل خاص طور پر ان نوجوانوں کیلئے اہم ہوسکتا ہے جو تعلیمی صلاحیت رکھتے ہیں اور اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے مطابق داخلوں میں ملک بھر سے طلبہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا، جبکہ ورچوئل اسکول کے ذریعے یونیورسٹی کے تعلیمی سفر سے قبل ہی باصلاحیت طلبہ کی شناخت اور تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال اعظم نذیر تارڑ احد خان چیمہ خالد مقبول صدیقی ڈاکٹر طارق فضل چودھری رکن قومی اسمبلی اسامہ سرور چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز دانش یونیورسٹی عارف سعید اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کے منصوبے پر پیش رفت جاری رکھنے اور مقررہ اہداف کے مطابق اسے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ منصوبے کے موجودہ شیڈول کے مطابق آئندہ مرحلے میں ورچوئل اسکول کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ، فیکلٹی کا انتخاب، برج پروگرام اور بالآخر ستمبر 2027 میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز شامل ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles