معروف قانون دان امیر معظم نے ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ کے پوڈ کاسٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی ضمانت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت کا مطلب بریت نہیں ہوتا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم حراست میں ہونے کے باوجود جیل سے باہر ضمانتیوں کی تحویل میں ہوتا ہے اور وہ عدالت میں پیشی کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
امیر معظم نے کہا کہ ضمانت ایکوئٹل نہیں ہوتی، بلکہ ایک طرح سے کنٹینیوڈ حراست ہی ہوتی ہے، جس میں شخص جیل سے نکل کر ضامنیوں کے ہاتھ آجاتا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے جب ضمانت کا حکم دیا تو اس کے پاس اس معاملے میں اختیار تھا اور عدالت نے اس اختیار کو استعمال کیا۔
سوشل میڈیا پر ایمان مزاری کے لیے ’ایک خاتون، نہتی خاتون، کمزور خاتون‘ کے الفاظ استعمال کیے جانے سے متعلق سوال پر امیر معظم نے کہا کہ پروپیگنڈا خود ایک بہت بڑی تلوار اور ایک عنصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اس پروپیگنڈے کو شکست دینے کے لیے بہترین ایڈووکیسی بھی استعمال کی جانی چاہیے اور یہ بہت لازم ہے۔
امیر معظم نے کہا کہ جب اسسٹنس کورٹس کو ٹھیک نہیں دی جاتی یا نامکمل دی جاتی ہے تو ریاست کے بارے میں تصور بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آتا۔ ان کے مطابق حکومت ریاست نہیں ہے بلکہ حکومت ریاست کے چار عناصر میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر عناصر میں لوگ، علاقہ اور خودمختاری شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی حکومت چلے گی، اسے تمام عناصر، یعنی عوام، علاقہ، حکومت کی ورکنگ، خودمختاری، ریاستی اداروں اور سکیورٹی ایجنسیز کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کو چلانا ہوگا۔
امیر معظم کے مطابق اگر ان معاملات کو سوچے سمجھے بغیر عدلیہ کی جانب سے فیصلے کیے جائیں تو ان کے نتائج ظالمانہ ہوتے ہیں، جبکہ عوامی سطح پر اگر کوئی ان معاملات کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرے تو وہ بھی غلط کرتا ہے، جس سے امن ناقص اور فساد پیدا ہوتا ہے۔
27 ستمبر کو تحریک انصاف کے متوقع احتجاج یا لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے کے امکانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے امیر معظم نے کہا کہ جب مشینری آئینی طور پر نہیں چل رہی ہو تو ایسے فیصلے ریاست کی سطح پر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گورنر نے کرنا ہوتا ہے اور گورنر نے صدر کو بھی اعتماد میں لینا ہوتا ہے، جبکہ سیاسی اور انتظامی فیصلے انہی حالات میں کیے جاتے ہیں۔
امیر معظم نے کہا کہ جب کے پی حکومت ختم ہوئی تو وہاں معین دنوں کے اندر انتخابات کرانے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بعد ازاں عدالت کے حکم پر انتخابات ہوئے، تاہم اس وقت تک مقررہ مدت گزر چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گورنر بھی اپنی جگہ موجود رہے، آئینی مشینری بھی چلتی رہی اور کوئی ایڈورس ایکشن بھی نہیں ہوا، حالانکہ درخواستیں عدالتوں میں بھی دائر کی گئی تھیں۔