خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران پولیس لائن مسجد کے قریب زور دار دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 17 افراد شہید جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 3 خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا ہے ان تینوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔
عوام سیخ پا
دوسری جانب دھماکے کے بعد عوام کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے ، مختلف مقامات پر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ سہیل آفریدی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بلاول کے کراچی میں ڈاکوؤں کا راج، ڈاؤ یونیورسٹی کا طالبعلم دن دہاڑے ُلٹ گیا ، واردات کی ویڈیو سامنے آگئی
دھماکے کے متاثرین پوچھ رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے بادشاہ بنے سہیل آفریدی کدھر ہے؟ کبھی وہ سیرسپاٹوں میں مگن نظر آتے ہیں تو آج جب کوہاٹ لہو لہو ہے وزیراعلیٰ عوام میں آنے کے بجائے اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر صرف حکم چلا رہے ہیں ۔
🚨پختونخوا عوام لہو لہو
سہیل افریدی وزیراعلی ہاؤس میں اے سی کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر پریزنٹیشن کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ کوہاٹ خون میں لت پت ہو چکا ہے@SohailAfridiISF pic.twitter.com/XydY2fPrWp— Azaad Urdu (@azaad_urdu) September 18, 2026
🚨کوہاٹ جل گیا، سہیل آفریدی خواب خرگوش میں۔۔ pic.twitter.com/uO8c3dtGae
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) September 18, 2026
عوام کا کہنا ہے کہ کوہاٹ دھماکے میں زخمی ہونے والے شہریوں اور پولیس اہلکاروں کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہےجبکہ 4 کروڑ صوبے کا وزیر اعلیٰ اور سرکاری مشینری اس وقت منظر سے غائب ہے۔
🚨🚨کوہاٹ پولیس لائنز حملہ۔۔۔ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کے جوان حملے میں زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج اور دیکھ بھال میں مصروف۔۔@SohailAfridiISF pic.twitter.com/PRvHNQNPtQ
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) September 18, 2026


