پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر جماعت اسلامی کے احتجاج اور 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد حکومت نے ایک بار پھر جماعت اسلامی سے رابطہ کرلیا ہے اور معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش تیز کردی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کرکے مذاکرات کے ایک اور دور کی دعوت دی۔ حکومتی جانب سے جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ہفتہ 19 ستمبر کو دوبارہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔
لیاقت بلوچ نے حکومتی رابطے کے جواب میں کہا ہے کہ وہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد مذاکرات کی دعوت پر جماعت اسلامی کا موقف آگاہ کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اب تک مذاکرات کے چار دور ہوچکے ہیں۔ پہلا رابطہ اور مذاکراتی عمل ستمبر کے اوائل میں شروع ہوا، جبکہ 16 ستمبر کو اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہونے والا چوتھا دور بھی کسی حتمی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
چوتھے دور کے بعد جماعت اسلامی کے مذاکراتی وفد کے سربراہ لیاقت بلوچ نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس تجویز سامنے نہ آنے کی صورت میں احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی اور 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال برقرار رہے گی۔ دوسری جانب حکومتی ٹیم نے مزید وقت مانگا تھا۔
جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا خاتمہ ہے جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ لیوی ختم ہونے سے عوام کو براہ راست ریلیف مل سکتا ہے اور اسی مطالبے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملے کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مذاکرات کے سابقہ ادوار میں حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام، آئی پی پیز اور دیگر معاشی امور سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آتی رہی ہیں۔
جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ محدود پیٹرول ریلیف کو بھی پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا متبادل قرار نہیں دیا تھا۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس کا احتجاج صرف کسی عارضی ریلیف کے بجائے لیوی کے مکمل خاتمے کے مطالبے کے لیے ہے۔
دوسری طرف 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لیوی کے معاملے پر قابل قبول فیصلہ کرتی ہے تو احتجاجی حکمت عملی پر نظرثانی کی جاسکتی ہے، جبکہ لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا مؤقف برقرار ہے۔
حکومت کی جانب سے تازہ رابطے کے بعد اب توجہ مذاکرات کے آئندہ دور پر مرکوز ہوگئی ہے۔ اگر دونوں فریق کسی قابلِ قبول فارمولے پر اتفاق کرتے ہیں تو 20 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے، تاہم فی الحال جماعت اسلامی نے لیوی کے خاتمے تک اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
یوں پیٹرولیم لیوی کا معاملہ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آگیا ہے مگر بنیادی مطالبے پر فریقین کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ آئندہ مذاکرات میں یہ فیصلہ اہم ہوگا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کسی ایسے فارمولے پر اتفاق کرپاتے ہیں یا نہیں جس سے احتجاجی تحریک اور 20 ستمبر کے مجوزہ مارچ کے معاملے کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے