مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر،بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر،بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویش سامنے آگئی ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اگست 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دی ہے۔

درخواست میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافے کی استدعا کی گئی ہے تاہم حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد ہوگا۔

نیپرا کی جانب سے درخواست پر 29 ستمبر کو سماعت مقرر کی گئی ہے جس کے بعد اضافے کی منظوری یا مسترد کیے جانے سے متعلق صورتحال واضح ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں :بجلی چوروں کیخلاف بڑا فیصلہ، ٹرانسفارمرز پر نیا  سسٹم لانے کی تیاری

  صارفین پر 29 ارب 50 کروڑ روپے کا بوجھ

درخواست منظور ہونے کی صورت میں بجلی صارفین کو مجموعی طور پر تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق مجوزہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے دوران ایندھن کی لاگت میں ہونے والی تبدیلیوں کو صارفین کے بلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

اس لیے نیپرا کی جانب سے درخواست پر فیصلہ آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ صارفین کے بجلی بلوں پر حقیقی اضافی رقم کتنی عائد ہوگی۔

  ڈسکوز کو 14 ارب 46 کروڑ یونٹس بجلی فراہم

اعداد و شمار کے مطابق اگست کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مجموعی طور پر 14 ارب 46 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔

ڈسکوز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی اوسط لاگت آٹھ روپے 82 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے مختلف ذرائع اور ان کی لاگت کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔

بجلی کی پیداوار میں پانی، مقامی اور درآمدی کوئلے، فرنس آئل، مقامی گیس اور درآمدی ایل این جی سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے گئے۔

پانی سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 37.84 فیصد رہا

اگست کے دوران مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے حاصل ہونے والی بجلی کا حصہ 37.84 فیصد رہا۔

مقامی کوئلے سے 10.88 فیصد جبکہ درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں بجلی کا نیا بحران یا بڑا منصوبہ؟ نیپرا نے اہم منظوری دے دی

اسی عرصے میں فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 2.15 فیصد جبکہ مقامی گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 7.04 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

درآمدی ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 8.48 فیصد بتایا گیا جبکہ دیگر ذرائع سے بھی بجلی کی پیداوار جاری رہی۔

ایندھن کی قیمتیں بھی ایڈجسٹمنٹ کا اہم حصہ

فیول ایڈجسٹمنٹ کے معاملے میں مختلف ایندھن سے بجلی کی پیداوار اور اس پر آنے والی لاگت اہم عوامل میں شامل ہوتی ہے۔

 اعداد و شمار میں فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 45.25 روپے فی یونٹ جبکہ درآمدی ایل این جی سے پیداوار کی لاگت 45.92 روپے فی یونٹ بیان کی گئی ہے۔

نیپرا کے فیصلے کے بعد حتمی صورتحال سامنے آئے گی

بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ نیپرا کی 29 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے بعد سامنے آئے گا۔

سماعت کے دوران متعلقہ فریقین درخواست میں شامل اعداد و شمار اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر اپنا مؤقف پیش کرسکتے ہیں۔

اگر درخواست منظور ہوگئی تو بجلی صارفین کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا جبکہ درخواست مسترد یا جزوی طور پر منظور ہونے کی صورت میں اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔

editor

Related Articles