کیمرون کی ایک فزکس کی طالبہ نے ایسا منفرد تھرمل کوکنگ بیگ تیار کیا ہے جس کی مدد سے کھانا پکانے کے لیے مسلسل گیس، بجلی یا لکڑی کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ بیگ بنیادی طور پر ایک خاص موصل مٹیریل سے تیار کیا گیا ہے جو برتن کے اندر موجود حرارت کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح یہ ایک طرح سے سلو کُکر کا کام کرتا ہے۔
یہ بیگ کام کیسے کرتا ہے؟
اس طریقے میں سب سے پہلے کھانے کو پتیلی میں تقریباً 5 سے 10 منٹ تک چولہے پر اُبالا جاتا ہے۔ جب کھانا اچھی طرح گرم ہوجائے تو پتیلی کو ڈھکن سمیت چولہے سے اتار کر خصوصی کوکنگ بیگ میں رکھ دیا جاتا ہے اور بیگ کو اچھی طرح بند کردیا جاتا ہے۔
بیگ کے اندر موجود موصل تہیں پتیلی کی حرارت کو باہر نکلنے سے روکتی ہیں۔ نتیجتاً کھانا اسی محفوظ حرارت میں کئی گھنٹوں تک آہستہ آہستہ پکتا رہتا ہے۔ چاول، دالیں اور گوشت جیسی غذائیں اس طریقے سے پکانے کے لیے موزوں ہیں۔
سوپ صرف 20 منٹ میں تیار
اس بیگ کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ سوپ کو تقریباً 10 منٹ تک اُبالنے کے بعد بیگ میں رکھ دیا جائے تو دعوے کے مطابق تقریباً 20 منٹ میں سوپ تیار ہوسکتا ہے۔ اس طریقے میں کھانا پکانے کے ابتدائی مرحلے کے بعد مسلسل ایندھن استعمال نہیں ہوتا، جس سے ایندھن کی بچت بھی ہوتی ہے۔
اس تھرمل کوکنگ بیگ کے استعمال سے کھانا پکانے کے لیے ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لکڑی کے استعمال میں کمی کے باعث درختوں کی کٹائی کم ہوسکتی ہے، جبکہ روایتی چولہوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے بھی لوگوں کا واسطہ کم پڑتا ہے۔
کیمرون میں ہاتھ سے تیار کیے گئے ایسے 2 ہزار سے زیادہ بیگ فروخت کیے جاچکے ہیں، جو کم وسائل میں کھانا پکانے کے لیے اس سادہ مگر دلچسپ ٹیکنالوجی میں لوگوں کی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔