Skip to content
بھارت، کالج کی مسلمان وائس پرنسپل کو گھنٹوں محصور رکھ کر زبردستی استعفی لے لیا گیا
Home - تازہ ترین - بھارت، کالج کی مسلمان وائس پرنسپل کو گھنٹوں محصور رکھ کر زبردستی استعفی لے لیا گیا
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ایک کالج کی مسلمان وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج سے دباؤ ڈال کر استعفیٰ لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق سریندر ناتھ کالج کی وائس پرنسپل محمدی ترنم کو طلبہ کے ایک گروپ نے کئی گھنٹوں تک ان کے دفتر میں محصور رکھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طلبہ کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے تھا۔
طلبہ مبینہ طور پر اپنے ساتھ استعفے کا ایک خط لے کر کالج پہنچے تھے جس پر محمدی ترنم سے دستخط کروائے گئے۔
23 گھنٹے تک محصور رکھنے کا دعویٰ
بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق طلبہ نے محمدی ترنم کو تقریباً 23 گھنٹے تک ان کے کمرے سے باہر نکلنے نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران طلبہ کی جانب سے ان سے استعفے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
محمدی ترنم نے طلبہ کے حصار سے باہر نکلنے کے فوراً بعد اعلیٰ حکام کو ایک ای میل بھی ارسال کی۔
ای میل میں مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان سے دباؤ کے ذریعے استعفے کے خط پر دستخط لیے گئے۔
وائس پرنسپل کے جانے کے بعد کمرے میں گنگا جل چھڑکنے کا دعویٰ
محمدی ترنم کے کالج سے جانے کے بعد طلبہ کے ایک گروپ کے ان کے کمرے میں داخل ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
فراہم کردہ مواد کے مطابق طلبہ نے کمرے میں اگربتیاں جلائیں اور مبینہ طور پر گنگا جل چھڑکا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا میں زیر بحث آنے والے ان واقعات میں شامل ہوگیا ہے جن میں مذہبی شناخت کے حوالے سے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔
حاضری کا معاملہ تنازع کی بنیادی وجہ بنا
رپورٹ کے مطابق محمدی ترنم اور طلبہ کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کی بنیادی وجہ قانون کے طلبہ کی حاضری سے متعلق معاملہ تھا۔
قانون کے طلبہ کو امتحانات میں شرکت کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری درکار تھی جبکہ متعدد طلبہ مبینہ طور پر مقررہ حاضری مکمل نہیں کر رہے تھے۔
اسی معاملے پر طلبہ اور کالج انتظامیہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا جو بعد ازاں وائس پرنسپل کے خلاف احتجاج اور استعفے کے مطالبے تک پہنچ گیا۔
