واقعے کے بعد حملے کی نوعیت اور اس میں ملوث فریق کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی سکیورٹی خدشات کی زد میں ہے، جس کے باعث تازہ واقعے کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب کا بھی دعویٰ
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ٹوگو کے پرچم والا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران مذکورہ ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایرانی حکام کی جانب سے بیان کیا جانے والا واقعہ وہی ہے جس کی برطانوی میری ٹائم ادارے نے اطلاع دی ہے یا دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی اور تیل بردار جہاز گزرتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں خطے میں کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔