دنیا سے الگ ایک دنیا، رورائیما پہاڑ کے حیرت انگیز راز

دنیا سے الگ ایک دنیا، رورائیما پہاڑ کے حیرت انگیز راز

وینزویلا، برازیل اور گیانا کی سرحدوں کے درمیان واقع رورائیما پہاڑ دنیا کے ان مقامات میں شمار ہوتا ہے جو پہلی نظر میں زمین کا حصہ ہونے کے باوجود کسی دوسری دنیا کا منظر پیش کرتے ہیں۔

تقریباً 2,810 میٹر بلند رورائیما کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی ہموار چوٹی ہے۔ عام پہاڑوں کے برعکس اس کی چوٹی نوکیلی یا ڈھلوان دار نہیں بلکہ اوپر سے بالکل سیدھی اور وسیع ہے، جس کی وجہ سے یہ دور سے ایک دیوہیکل قدرتی میز کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگی گیس کا متبادل؟ کھانا پکانے والا حیرت انگیز تھرمل بیگ سامنے آگیا

بادلوں کے سمندر کے اوپر ایک دنیا

رورائیما کی چوٹی اکثر گھنے سفید بادلوں میں گھری رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اس کی بلند چوٹی پر پہنچتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بادلوں کے سمندر کے درمیان کسی الگ دنیا میں کھڑا ہو۔ پہاڑ کی تقریباً عمودی چٹانی دیواریں اسے انتہائی مشکل اور سنسنی خیز مقامات میں شامل کرتی ہیں، جبکہ اس کی جغرافیائی ساخت نے لاکھوں سال تک اسے آس پاس کے علاقوں سے بڑی حد تک الگ تھلگ رکھا۔

یہاں منفرد جاندار کیوں پائے جاتے ہیں؟

طویل عرصے تک الگ تھلگ رہنے کے باعث رورائیما کی چوٹی پر ایک منفرد ماحولیاتی نظام وجود میں آیا ہے۔ یہاں ایسے پودے اور جاندار بھی پائے جاتے ہیں جو دنیا کے دوسرے علاقوں میں عام نہیں۔ ان میں رورائیما بلیک ٹوڈ نامی ایک چھوٹا سیاہ مینڈک بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گوشت خور پودے، عجیب و غریب چٹانی ساختیں اور کرسٹل سے بھرے علاقے بھی اس پہاڑ کی پراسراریت میں اضافہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایک ہی تاریخ پر 5نسلوں کی پیدائش، خاندان نے عالمی ریکارڈ بنا دیا

‘دی لوسٹ ورلڈ’ سے بھی تعلق

رورائیما کی پراسرار شکل نے مصنف سر آرتھر کونن ڈائل کو بھی متاثر کیا۔ ان کے مشہور ناول ‘دی لوسٹ ورلڈ’ میں ایک ایسی الگ تھلگ دنیا کا تصور پیش کیا گیا جہاں ڈائنوسار اب بھی زندہ تھے۔ آج رورائیما مہم جوؤں، کوہ پیماؤں اور سائنسدانوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ اس کی منفرد جغرافیائی ساخت، نایاب حیات اور بادلوں میں چھپی چوٹی اسے دنیا کے حیرت انگیز قدرتی مقامات میں شامل کرتی ہے۔

editor

Related Articles