Skip to content
27منٹ پرواز ،صرف 5 ڈالر خرچ ، ای جہاز نے دنیا کو حیران کر دیا
Home - تازہ ترین - 27منٹ پرواز ،صرف 5 ڈالر خرچ ، ای جہاز نے دنیا کو حیران کر دیا
ہوائی سفر کے شعبے میں ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے باعث برقی طیاروں کی تیاری پر دنیا بھر میں توجہ بڑھ رہی ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے 30 نشستوں پر مشتمل برقی طیارہ تیار کیا ہے، جسے ’’ایکس ون‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
کمپنی کے تیار کردہ طیارے نے حال ہی میں نیویارک میں ایک اہم آزمائشی پرواز مکمل کی، جس کے بعد برقی ہوابازی کے شعبے میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔
صرف بیٹری کی طاقت سے 27 منٹ تک پرواز
ذرائع کے مطابق ایکس ون طیارے نے آزمائشی پرواز کے دوران صرف بیٹری سے حاصل ہونے والی بجلی استعمال کی۔
طیارہ تقریباً گیارہ سو فٹ کی بلندی پر 27 منٹ تک فضا میں رہا جسے اس منصوبے کے لیے ایک اہم آزمائشی مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔
برقی طیارے کی آزمائشی پرواز کا مقصد اس ٹیکنالوجی کی عملی صلاحیتوں اور بیٹری سے چلنے والے ہوائی سفر کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
روایتی مسافر بردار طیاروں کے مقابلے میں برقی طیاروں کی تیاری کا بنیادی مقصد ایندھن کے استعمال اور پرواز کے اخراجات کو کم کرنا بھی ہے۔
طیارہ 76 فٹ لمبا اور 25 ہزار پاؤنڈ وزنی
ایکس ون طیارے کی لمبائی 76 فٹ بتائی گئی ہے، جبکہ اس کا وزن تقریباً 25 ہزار پاؤنڈ ہے۔
طیارے میں 30 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے جس کے باعث اسے چھوٹے پیمانے کی مسافر بردار پروازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس طیارے کی تیاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہوابازی کی صنعت میں کاربن اخراج اور ایندھن کے اخراجات کم کرنے کے لیے متبادل ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔
برقی توانائی سے چلنے والے طیارے اسی کوشش کا حصہ ہیں تاہم ان کے تجارتی استعمال کے لیے بیٹری کی صلاحیت اور پرواز کے دورانیے جیسے چیلنجز بدستور اہم ہیں۔
27 منٹ کی پرواز پر صرف 5 ڈالر بجلی خرچ ہونے کا دعویٰ
فراہم کردہ معلومات کے مطابق آزمائشی پرواز کے دوران طیارے نے 27 منٹ تک بیٹری پاور استعمال کی اور اس دوران بجلی کی لاگت صرف پانچ ڈالر رہی۔
اگر یہ لاگت اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار تصدیق شدہ صورت میں برقرار رہتے ہیں تو برقی طیاروں کے ممکنہ آپریشنل اخراجات کے حوالے سے یہ تجربہ قابل توجہ ہے۔
روایتی ہوائی جہاز جیٹ فیول استعمال کرتے ہیں جس کی قیمت میں عالمی منڈی کے حالات کے مطابق مسلسل اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔
برقی طیاروں کے حامیوں کے مطابق بجلی سے پرواز کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں بعض مخصوص روٹس پر آپریشنل اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
برقی ہوابازی کے لیے ایک اہم آزمائشی مرحلہ
ماہرین اور طیارہ ساز کمپنیاں طویل عرصے سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جس کے ذریعے مختصر فاصلے کی مسافر پروازوں کو بجلی سے چلایا جاسکے۔
ایکس ون کی آزمائشی پرواز اسی کوشش میں ایک مرحلہ ہے تاہم تجارتی سطح پر طیارے چلانے کے لیے مزید آزمائشوں اور تکنیکی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
خاص طور پر بیٹری کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، پرواز کی زیادہ سے زیادہ حد، مسافروں کے وزن اور حفاظتی تقاضے ایسے عوامل ہیں جنہیں برقی مسافر بردار طیاروں کی تیاری میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
نیویارک میں مکمل ہونے والی 27 منٹ کی آزمائشی پرواز نے برقی مسافر طیاروں کے مستقبل سے متعلق بحث کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے۔