ایران سے متعلق قرارداد پر سلامتی کونسل میں اختلافات،چین اور روس نے ویٹو کر دی

ایران سے متعلق قرارداد پر سلامتی کونسل میں اختلافات،چین اور روس نے ویٹو کر دی

  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی سے متعلق قرارداد چین اور روس کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہوسکی۔

قرارداد میں ایران پر پابندیوں کی نگرانی کے لیے آزاد ماہرین کے پینل کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس پینل کا مقصد پابندیوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنا اور سلامتی کونسل کو اپنی رپورٹس پیش کرنا تھا۔

قرارداد میں کیا تجویز تھا؟

مجوزہ قرارداد کے تحت ماہرین کے آزاد پینل کو بحال کیا جانا تھا۔ پینل ایران سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیتا اور خلاف ورزیوں کی صورت میں سلامتی کونسل کو آگاہ کرتا۔

 یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار ختم یا محدود کیا جائے ، پاکستان

پینل کو مزید اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرنے کا اختیار بھی حاصل ہونا تھا۔

چین اور روس کا ویٹو

سلامتی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ کے دوران چین اور روس نے اسے ویٹو کردیا۔

دونوں ممالک کی جانب سے ویٹو کے بعد قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ اس معاملے پر سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق پالیسی اور پابندیوں کے حوالے سے اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے۔

ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد پابندیوں کی نگرانی کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق اختلافات کے باعث تہران کو مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہے۔

نئی قرارداد کا بنیادی مقصد ان پابندیوں کی نگرانی کے لیے موجود ماہرین کے نظام کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔

ایرانی اسپیکر کا ردعمل

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے چین اور روس کی جانب سے ویٹو کے استعمال کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور روس کے اقدام سے سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال کی مخالفت سامنے آئی ہے۔

محمد باقر قالیباف کے مطابق ویٹو نے قانون کی حکمرانی کے اصول کی توثیق کی ہے۔

سلامتی کونسل میں اختلافات برقرار

ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کی جانب سے سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرار داد ویٹو کیے جانے پر پاکستان کا ردِ عمل

ایک جانب ایران پر پابندیوں اور نگرانی کے لیے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب چین اور روس کی جانب سے ان اقدامات کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قرارداد کی ناکامی کے بعد ایران کے خلاف پابندیوں کی نگرانی اور مستقبل کے لائحہ عمل کا معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سلامتی کونسل میں آئندہ بھی اس معاملے پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

editor

Related Articles