مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تیار کی گئی ایک غلط رپورٹ نے امریکی فوجی تجزیہ کاروں کو ایسی معلومات فراہم کردیں جن کی بنیاد پر امریکا اور چین کے درمیان سنگین کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک امریکی تجزیہ کار نے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹ کی مدد لی۔ چیٹ بوٹ نے جواب تیار کرتے ہوئے خفیہ معلومات کے ساتھ اوپن سورس ڈیٹا بھی شامل کردیا، جس کے نتیجے میں ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی جس میں چینی بحری جہاز سے متعلق اہم دعویٰ کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک چینی جہاز ایران کے جوہری پروگرام کے لی استعمال ہونے والے اجزا منتقل کر رہا تھا۔ یہ اطلاع امریکی حکام کے لیے انتہائی حساس نوعیت کی تھی اور اگر اسے درست سمجھ کر کارروائی کی جاتی تو امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی تھی۔
بعد ازاں رپورٹ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس میں شامل معلومات قابل اعتماد نہیں تھیں اور امریکی تجزیہ کار نے غلط رپورٹ تیار کی تھی۔اے آئی سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں اوپن سورس معلومات شامل ہونے کے باعث ایسی معلومات ایک حساس انٹیلی جنس رپورٹ کا حصہ بن گئیں جو درست تناظر کے بغیر گمراہ کن ثابت ہوسکتی تھیں۔
یہ واقعہ حساس دفاعی اور انٹیلی جنس معاملات میں مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار کے ممکنہ خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔