ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبے بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، اگر فسادات یا ہنگامے ہونے ہوتے تو اب تک ہوچکے ہوتے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نےکہا کہ پیپلزپارٹی لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے تاکہ عوام دیگر مسائل بھول جائیں،انہوں نے کہا کہ جب پیپلزپارٹی کی کرپشن کی بات کی جاتی ہے تو صوبائی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھی عوام ہمارے بھائی ہیں اور سندھ کے لوگوں کے حالات ان سے زیادہ خراب ہیں،ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سے آگے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ غربت کیا ہوتی ہے اور عوام کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے بننے سے قتل و غارت یا بدامنی نہیں ہوگی،انہوں نے کہا کہ اگر فسادات یا ہنگامے ہونے ہوتے تو اب تک ہوچکے ہوتے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دھرنوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے،وفاق نے صوبوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے اور اب صوبوں کا احتساب کیا جانا چاہیے،انہوں نے انتظامی معاملات میں بہتری اور عوامی مسائل کے حل کیلئے موجودہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔