انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر، تمام مظلوم اورغریب عوام متحد ہوں،مصطفیٰ کمال

انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر، تمام مظلوم اورغریب عوام متحد ہوں،مصطفیٰ کمال

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتظامی نظام کی ازسرنو تشکیل کا وقت آچکا ہے، اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں، اس لیے ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کورنگی ٹاؤن میں انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے جاری عوامی رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات اور وسائل ملک کے ہر شہری کی دہلیز تک پہنچنے چاہئیں،موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث عام آدمی بنیادی سہولتوں اور اپنے جائز حقوق سے محروم ہے،انہوں نے کہا کہ انتظامی ریسٹرکچرنگ کا مقصد کسی علاقے یا طبقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ حکومتی نظام کو عوام کے قریب لانا ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں ان کے اپنے علاقوں میں دستیاب ہوسکیں۔

18ویں ترمیم پر تنقید

مصطفیٰ کمال نے صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد گزشتہ 18 برسوں کے دوران صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور وسائل کا مطلوبہ انداز میں استعمال نہیں کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے باوجود عام شہری کی محرومیوں میں کمی نہیں آسکی بلکہ کئی علاقوں میں مسائل مزید بڑھ گئے ہیں ،یہی صورتحال ملک میں مختلف نوعیت کے بحرانوں اور بے چینی کا سبب بن رہی ہے۔

موجودہ نظام پر سوالات

وفاقی وزیر صحت نے موجودہ نظام حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے ملک کا نظام ایسے حالات پیدا کرتا آرہا ہے جن میں اپنے ہی لوگ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں،مصطفیٰ کمال کے مطابق موجودہ نظام کے تحت ملک کو مزید چلانا مشکل ہے اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہےانہوں نے چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

کراچی کے مسائل گنوادیے

مصطفیٰ کمال نے کراچی کے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں مختلف بنیادی سہولتوں کی خراب صورتحال کے باعث شہری مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کے علاوہ کھلے گٹروں میں گرنے سے بچوں کی اموات کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، جبکہ ڈمپروں کی زد میں آکر شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر، تمام مظلوم اورغریب عوام متحد ہوں،مصطفیٰ کمال

ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں بھی سنگین مسائل موجود ہیں اور اسپتالوں میں غلط سرنج کے استعمال سے ایڈز پھیلنے جیسے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔

اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ

مصطفیٰ کمال نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر بھی تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر موبائل فون چھیننے کی وارداتوں کے دوران نوجوانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، کراچی جیسے بڑے شہر کے شہری بنیادی تحفظ اور سہولتوں کے حق دار ہیں، لیکن موجودہ انتظامی نظام ان مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

نوجوان روزگار سے محروم

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کراچی کے نوجوانوں کو درپیش روزگار کے مسائل کا بھی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ شہر کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں اور شہری کوٹے کے معاملے میں بھی انہیں ان کا حق نہیں مل رہا،مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کے شہری کوٹے پر بھی جعلی ڈومیسائل کے ذریعے حق مارا جاتا ہے، جس کے باعث مقامی نوجوان سرکاری ملازمتوں کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔

فوڈ پانڈا تک محدود مواقع

انہوں نے سندھ کی حکمران جماعت اور صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ ان کے لیے روزگار کی واحد جگہ ’’فوڈ پانڈا‘‘ رہ گئی ہے،مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے انتظامی نظام کو عوام کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنا ہوگا۔

عوام کو متحد ہونے کی اپیل

مصطفیٰ کمال نے پاکستان کے تمام مظلوم اور غریب عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے انہیں متحد، منظم اور متحرک ہونا ہوگا،انہوں نے کہا کہ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے منظم آواز نہیں اٹھائیں گے، اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مقصد حاصل نہیں ہوسکے گاعوامی رابطہ مہم کے موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر مرکزی رہنما انیس قائم خانی، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکین صوبائی و قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔

editor

Related Articles