وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیراعظم کی نیویارک آمد کے بعد اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی وفد کی اہم سفارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
جنرل اسمبلی سے اہم خطاب
وزیراعظم شہباز شریف 25ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کریں گے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم عالمی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے۔
شہباز شریف مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیں گے۔
وزیراعظم عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی بات کریں گے۔
کشمیر اور فلسطین کا معاملہ بھی اجاگر ہوگا
وزیراعظم اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کا معاملہ بھی عالمی فورم پر اٹھائیں گے۔
وہ عالمی برادری کی توجہ ان معاملات سے متعلق پاکستان کے مؤقف اور ترجیحات کی جانب مبذول کرائیں گے۔
فلسطین میں جاری صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے عالمی رہنماؤں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
عالمی چیلنجز پر پاکستان کا مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور دہشت گردی سمیت اہم عالمی چیلنجز پر بھی بات کریں گے۔
اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی مسائل اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات بھی وزیراعظم کے خطاب کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گی۔
وزیراعظم اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات اور عالمی جنوب کو درپیش مسائل پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
پاکستان عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم ذریعہ قرار دیتا رہا ہے۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ نیویارک کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کرسکتے ہیں۔
ان ملاقاتوں میں پاکستان کے خارجہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف ممالک کے نمائندوں اور اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
پاکستانی وفد عالمی فورم پر ملک کے اہم سفارتی، علاقائی اور عالمی معاملات سے متعلق مؤقف اجاگر کرے گا۔
وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں شرکت کو پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستانی وفد کی سفارتی سرگرمیاں جاری
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا کو مختلف تنازعات اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستانی قیادت عالمی برادری کے سامنے خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک آمد کے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے متعلق پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔
وزیراعظم کا خطاب عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستان کی ترجیحات اور مختلف عالمی معاملات پر ملک کے مؤقف کے اظہار کا اہم موقع ہوگا۔