جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت اور ان کے اداروں کے خلاف بیانات ریاست سے متعلق الفاظ کے استعمال پر جماعت کے اندر سے ہی بغاوت ہونے لگی ہے، سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اختلافات شدت اختیار کرنے پر ایک کارکن نے پارٹی چھوڑنے اور مولانا فضل الرحمٰن سے تمام سیاسی و جماعتی تعلق ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
کارکن کی جانب سے سامنے آنے والی تنقید میں مولانا فضل الرحمٰن کے اداروں کے خلاف بیانات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے، کارکن کا کہنا ہے کہ جماعت کی قیادت اپنے سیاسی مفادات کے مطابق راستے نکال لیتی ہے، لیکن جب کارکن مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں خود ہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کارکن نے شکوہ کیا کہ سیاسی قیادت کے فیصلوں اور بیانات کے نتائج عام کارکنوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، انہیں پولیس اور عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، جبکہ قیادت اپنے لیے سیاسی راستہ نکال لیتی ہے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی عوامی اور ملکی سطح پر کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور جماعت کی سیاسی جدوجہد کے نتائج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔کارکن نے واضح اعلان کیا کہ وہ اب جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مزید کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے اور جماعت سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔اس واقعے کو جماعت کے اندر قیادت کی پالیسیوں اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق بڑھتی ہوئی ناراضی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔