ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں ایران امریکا کشیدگی اور روس یوکرین جنگ سمیت اہم عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق اردوان نے امریکی صدر سے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجود کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کو مزید پیچیدہ ہونے سے بچانے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مذاکراتی عمل کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق انقرہ سفارتی رابطوں کے ذریعے اختلافات کے حل اور فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
گفتگو میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بھی زیر بحث آئی،اردوان نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ رابطوں اور مشاورت کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ عمل حل کی راہ نکالی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ کے دونوں فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہےرجب طیب اردوان نے امریکی صدر سے گفتگو میں ترکیہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ انقرہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔