پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ہر حد پار کرگئی

پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ہر حد پار کرگئی

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں نے عوام کوخون کے آنسو رلا دیا ہے ، آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں ہم یہ بتائیں گے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات نے ملک اور صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا اور ایسے خلا پیدا کیے جن سے سکیورٹی صورتحال مزیدخراب  ہوئی ، یہی نہیں صوبائی حکومت دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ہر حد پار کرچکی ہے۔

تین بار اقتدار، مگر امن و ترقی کہاں ؟  

فروری 2024 کے انتخابات کے بعد سے پی ٹی آئی صوبے میں مسلسل تیسری بار حکومت چلا رہی ہے لیکن ترقی و خوشحالی کی بات ہو یا دہشتگردی کے خاتمے کی ، یہ حکومت ان سب معاملات سے لاتعلق نظر آتی ہے ،  4 کروڑ آبادی پر مشتمل یہ صوبہ معاشی خوشحالی کا رخ کرنے کے بجائے  اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، یہ جنگ جس میں اب تک ہزاروں پاکستانیوں نے جان قربان کردی اور کررہے ہیں ، یہ صوبہ  پی ٹی آئی کی خودغرضی ، نااہلی اور انتہاپسندانہ سوچ کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اور ان کے رہنما جو عوام کے ساتھ بڑے وعدے کرتے رہے ہیں آج تک صوبے کی عوام ان وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچتے دیکھ نہیں پائی۔

 آزاد تحقیقات کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کی سہولتکاری میں ملوث ہے اور یہ  بات ثابت ہو چکی ہے کے خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار بن چکی ہے ،  پاکستان کی اس جنگ جس میں بے شمار پاکستانیوں نے اپنے جان کے نذرانے دیے ہیں ان سب سے تحریک انصاف حکومت مکمل لا تعلقی اختیار کر چکی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے اعمال سے اس بات پر مہر لگائی ہے کہ اس کے لیے عوام اور صوبہ اہم نہیں ، غیر قانونی افغان دہشت گردوں کی معاونت کامعاملہ ہو  ، شہیدوں کے جنازوں میں عدم شرکت ، فتنہ الخوارج کے خلاف کوئی بیان نہ دینا ہو  اور سب سے بڑھ کر پولیس اور انتظامیہ کی دہشت گردی سے لڑنے کی صلاحیتوں کو بدتریج کم کرنا اور گزند پہنچانے کا نیا اقدام بھی سامنے آگیا ۔

 حکومت خیبر پختونخوا  جو صوبے  کی جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے جسے اٹھارویں ترمیم میں واضح کیا گیا ہے لیکن پچھلے تیرہ سالوں سے خیبر پختونخوا کے بہادر لوگوں کو دہشت گرد بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ رہے ہیں اور صوبائی حکومت بجائے دہشت گردی کی لعنت سے نپٹنے کے وہ  خود دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے اور اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے انہیں دہشت گردوں کے رحم پر چھوڑ دیا ہے ۔

 خیبر پختونخوا حکومت اُن سب  مذموم کاموں کو درجہ بدرجہ کرتی چلی جا رہی ہے  جس سے جاری دہشت  گردی کی جنگ مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور یہ اس کی پاکستان دشمنوں کے ساتھ سہولتکاری کا واضح ثبوت بھی ہے۔

دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں وزیراعلیٰ کی عدم دلچسپی

آذاد تحقیقات  کے مطابق اس سلسلے میں ان چند عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا  سکتا جو اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ، وزیراعلی سہیل آفریدی خود اس کی عملی تصویر ہیں جنہوں نے  اکتوبر 2025  سے لے کر آج تک دہشت گردی سے شدید متاثرہ اضلاع ، شمالی اور جنوبی وزیرستان، مہمند اور اورکزئی کا کوئی دورہ نہیں کیا  اور نا ہی شہیدوں کے جنازوں میں شرکت کی ۔

ایپکس کمیٹی اجلاس 

دہشت گردی  سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے میں، اپنے پورے دور حکومت میں اب تک وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  نے فروری 2026 میں صرف ایک رسمی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کیا گیا ۔

خودکش حملوں میں اضافہ 

 پچھلے ایک سال میں کے پی کے میں اب تک 19  خود کش حملے ہوئے جن میں سے 12 حملے افغان نژاد دہشت گردوں نے کیے جو صوبائی حکومت کی افغان طالبان کی  سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا ۔

17 ستمبر 2024  کا واقعہ ،  پی ٹی آئی کے لیے ریاستی وقار کی کوئی اہمیت نہیں؟

یہ واقعہ دستاویزی طور پر ثابت ہے کہ  17 ستمبر 2024 کو پشاور میں منعقدہ  کانفرنس کے دوران افغان قائم مقام قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کو مدعو کیا گیا اور قومی ترانے کے دوران افغان مندوبین دانستہ طور پر اپنی نشتوں پر بیٹھے رہے  جس پر تحریک انصاف کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں دیا گیا نہ ہی کوئی سوال نہ احتجاج ؟  جو نہ صرف انتہائی شرمناک عمل ہے بلکہ ریاست کی توہین بھی ہے اور اس خاموشی پر پی ٹی آئی کے لیے ملک کی عزت و وقار کیا معنی رکھتی ہے،  یہ اس نے دکھا دیا ۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، پی ٹی آئی دہشت گردی میں اضافے کا ذمہ دار

 آزاد تحقیقات کے مطابق صوبائی حکومت کی اس مد میں نااہلی سے صرف 2024-2025 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، جبکہ اغوا/ قتل کے واقعات میں بھی 23 فیصد اضافہ ہوا ،  یہی نہیں منشیات اور اسمگلنگ میں 15 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جوکہ اس کی بدترین کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

پولیس ایکٹ میں ترمیم 

 صوبائی حکومت کی طرف سے پولیس ایکٹ میں  ترمیم کی منظوری  کا غیر آئینی اور غیر قانونی عمل بھی  اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ پولیس جو آرمی کے ساتھ ملکر دہشت گردی کے اس نا سور کو ختم کرنے میں انتہائی اہم کام کر رہی ہے اس  کی صلاحیتوں کو متاثر کیا جائے اور اسے  اپنے ماتحت کر کے  دہشت گردی کی جنگ میں غیر فعال کیا جائے ۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سکیورٹی ادارے فرنٹ لائن پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ایسے میں پولیس کے اختیارات اور انتظامی خودمختاری کو متاثر کرنے والی کسی بھی ترمیم پر شفاف بحث اور واضح جواز ضروری ہے ۔

امن و امان کے نازک حالات میں اختیارات کی ایسی تبدیلی عوام کے تحفظ اور ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ تشویش پیدا کرتی ہے ، یہ ایک انتہائی خطرناک اور نا قابل قبول عمل  ہے  جس کی ریاست کسی صورت بھی  اجازت  نہیں دے  سکتی  اور نہ دی  جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں : پختونخوا میں گورنر راج کیلئے مشاورت، پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں، جلد راہ فرارکا اعلان ہوگا: فیصل کنڈی

 خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، پولیس مسلسل حملوں کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت پولیس کے کمانڈ، تقرریوں اور پالیسی سازی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں تجویز کر رہی ہے یہ کہاں کی عقلمندی ہے اور کیا انہیں اس وقت کی نزاکت کا احساس نہیں ؟۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشتگردوں کیلئے ہی نرم گوشہ رکھنے والی  خیبر پختونخوا حکومت آخر کس کے ساتھ ہے ؟ عوام  یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں مگر پی ٹی آئی اپنی ہی کسی دھن میں مگن ہے کیونکہ  اسے کبھی عوام نظر آئی ہی نہیں ہے ۔

editor

Related Articles