میکسیکو میں واقع چولولا کا عظیم اہرام دنیا کے سب سے بڑے قدیم اہراموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ اسے حجم اور زمینی پھیلاؤ کے اعتبار سے مصر کے عظیم اہرام سے بھی بڑا قرار دیا جاتا ہے۔
اس قدیم اہرام کا مقامی نام تلاچیہوالتیپیتل ہے، جس کے معنی ’انسان کا بنایا ہوا پہاڑ‘ ہیں۔ یہ نام اس عمارت کی غیر معمولی ساخت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ صدیوں گزرنے کے بعد یہ پورا ڈھانچہ ایک قدرتی پہاڑی کی شکل اختیار کرگیا۔
صدیوں میں تہہ در تہہ تعمیر
چولولا کا اہرام ایک ہی مرحلے میں تعمیر نہیں ہوا بلکہ مختلف ادوار میں اسے کئی تہوں کی صورت میں وسیع کیا گیا۔ اس کی تعمیر کا آغاز قدیم دور میں ہوا اور وقت کے ساتھ مختلف تہذیبوں نے اس میں توسیع کی۔
بعد میں جب یہ مقام ترک ہوگیا تو اہرام پر مٹی، گھاس اور دیگر نباتات جمع ہوتی گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا اصل ڈھانچہ اتنا چھپ گیا کہ یہ ایک قدرتی پہاڑی دکھائی دینے لگا۔
1519 میں جب ہسپانوی فاتح چولولا پہنچے تو وہ اس پہاڑی نما ڈھانچے کے اندر چھپے عظیم اہرام کو پہچان نہ سکے۔ انہوں نے اسے قدرتی پہاڑی سمجھا اور اس کی چوٹی پر ایک چرچ تعمیر کردیا۔ آج بھی چرچ کے ساتھ موجود یہ پہاڑی بظاہر ایک عام بلند مقام دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے اندر قدیم اہرام کا وسیع ڈھانچہ موجود ہے۔
چولولا اہرام کی ایک حیران کن خصوصیت اس کے اندر موجود سرنگیں ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس کے اندر کئی کلومیٹر طویل راستوں اور سرنگوں کا سراغ لگایا ہے، جو قدیم تعمیراتی مہارت اور انجینئرنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مقام اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ وقت کس طرح کسی عظیم انسانی تعمیر کو قدرتی منظر کا حصہ بنا سکتا ہے۔
آج چولولا کا عظیم اہرام میکسیکو کی قدیم تہذیبوں، مذہبی روایات اور تعمیراتی تاریخ کی ایک اہم یادگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے حیران کن بات یہی ہے کہ ایک عظیم اہرام صدیوں تک ایک پہاڑی کے اندر چھپا رہا، جبکہ اس کی چوٹی پر تعمیر کیا گیا چرچ اس کے راز کو مزید منفرد بنا دیتا ہے۔