گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، گورنر راج ماضی میں بھی لگے ہیں یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہے ۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق بات کرتے کہا کہ تحریک انصاف کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں ہے اور پارٹی کے لیڈرز راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، پارٹی کے لیڈران چھپ چکے ہیں.
ان کاکہنا تھا کہ انہوں نے خودساختہ روپوشی اختیار کر لی ہے، کوئی دائیں بائیں سے فون کروا رہا ہے کہ ہمیں گرفتار کریں تاکہ ہم لانگ مارچ سے بچ سکیں، لہذا مجھے لگتا ہے کہ وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں ہے، یہ اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے لوگ خود گرفتاریاں دے رے ہیں۔
فیصل کنڈی نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے لانگ مارچ سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم 10 لاکھ، 20 لاکھ بندے لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں اپنے حلقے میں ہونا چاہے، وہ تو اسلام آباد کے کیفیز میں بیٹھ کر گپیں مار رہے ہیں اور وہاں سے سوشل میڈیا پر لانگ مارچ کروا رہے ہیں۔‘
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کا امکان بھی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش بھی ہے، صوبے میں امن و امان کی صورتحال دیکھیں اور لانگ مارچ دیکھیں، صوبےمیں کرپشن، لاقانونیت اور دہشتگردی ہو رہی ہے۔
فیصل کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کابینہ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میری پولیس مردانہ وار لڑ رہی ہے، سب سے کم تنخواہیں میرے صوبے کی پولیس ہیں، انہیں مراعات نہیں دے سکتے لیکن آپ چاہتے ہیں کہ پولیس بس میرے تابع ہو۔ کیا اس قانون پر کسی اور صوبے میں عملدرآمد ہوا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ میرے پاس آ(یہ ایکٹ) آیا تو میں کبھی بھی اسے منظور نہیں کروں گا ، ہم پولیس کے سپاہیوں کا تحفظ کریں گے اور اس ایکٹ کے درمیان دیوار بنیں گے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے بدھ کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت پولیس پالیسی اور آپریشنز سے متعلق اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ کے اختیار میں دینے کی بات کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک نے 27 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔