سینئر صحافی حسن ایوب نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کی مبینہ معاونت، سہولت کاری اور شہداء کی قربانیوں سے متعلق الزامات اب محض بیانات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر دعوے کا جواب دینا ہوگا۔
حسن ایوب نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ہر دعوے کا حساب دینا ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہو چکا، دھمکیوں، شور شرابے اور سیاسی بڑھکوں سے حقیقت نہیں بدلے گی، اب باتوں کے بجائے جواب دینے کا وقت ہے۔
سینئر صحافی نے سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سنگین الزامات پر وضاحت ضروری ہے اور اب صرف بیانات کافی نہیں بلکہ جواب درکار ہیں۔
حسن ایوب خان نے اپنی پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ Enough is Enough
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال سے لاعلم ہے اور دہشتگردوں کے خلاف اقدامات سے گریزاں ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف دہشتگردوں کی منظورِ نظر جماعت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نہ صرف دہشتگردوں کی مذمت کرنے سے گریز کرتی ہے بلکہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ’’بی ٹیم‘‘ اور کالعدم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی ’’سی ٹیم‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری کرنا پی ٹی آئی کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری سے باز رہنا چاہیے۔
عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا ہی نہیں چاہتے۔