25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب فتنہ الہندوستان (FAH) گروپ نے کمانڈر اسد بولانی کی قیادت میں کمانڈر رفیق کے ہمراہ خلیل شہید چیک پوسٹ پر مختلف سمتوں سے حملے کی کوشش کی، تاہم چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں نے حملہ پسپا کردیا۔
حملہ پسپا کرنے کے دوران فتنہ الہندوستان گروپ کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، سیکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی، جس کے بعد دہشت گرد پسپا ہوکر فرار ہوگئے۔
فرار کے راستوں پر گھات
حملے کے بعد 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب WC-107 نے 3 کاؤنٹر ٹیررازم اہلکاروں کے ہمراہ دہشت گردوں کے ممکنہ فرار کے راستوں پر گھات لگا دی، جو فجر تک جاری رہی،فجر کے وقت ڈپٹی کمانڈر جی ایس کی قیادت میں مزید 3 کاؤنٹر ٹیررازم اہلکار گھات لگانے والی فورس میں شامل ہوئے اور ڈیگاری ایکس اور خلیل شہید چیک پوسٹ کے درمیان سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
فرار ہوتے 2 دہشت گرد ہلاک
شام 4 بجے ایک گاڑی سے فرار ہونے والے 2 دہشت گردوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، دونوں دہشت گرد ایک لاش لے کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے نشانہ بنایا اور ہلاک کردیا۔
ایک دہشت گرد کی لاش برآمد
شام 5 بج کر 20 منٹ پر علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کی لاش بھی برآمد کرلی گئی۔ بتایا گیا کہ دہشت گرد گزشتہ رات اپنے ساتھی کی لاش واپس لے جاتے ہوئے اسے چھوڑ گئے تھے۔
17 مشتبہ افراد حراست میں
سرچ آپریشن کے دوران FCIU اور WICE کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد سے مزید معلومات اور ممکنہ سراغ حاصل کرنے کے لیے تفتیش کی جائے گی۔
دہشت گردوں کی 2 گھاتیں
شام 7 بجے خلیل شہید چیک پوسٹ اور ڈیگاری ایکس کے درمیان گولہ بارود لے جانے والے 3 کاؤنٹر ٹیررازم اہلکاروں کو دہشت گردوں نے گھات لگا کر نشانہ بنایا۔اہلکاروں نے پہلی گھات کی جگہ کو کلیئر کردیا، تاہم تقریباً ایک کلومیٹر آگے دہشت گردوں نے دوبارہ گھات لگا کر حملہ کیا۔
RPG-7 سے گاڑی نشانہ بن گئی
دوسرے حملے کے دوران ایک گاڑی RPG-7 راکٹ سے نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے۔ ٹائر پھٹنے کے باوجود گاڑی رم پر چلتی رہی،رپورٹ کے مطابق حملے میں سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہے۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 4 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ 17 افراد کو حراست میں لیا گیا۔