دشمن کی کمر توڑنے کا مشن جاری، سیکیورٹی فورسز کا باڑہ میں بڑا آپریشن ، متعدد دہشت گرد جہنم واصل

دشمن کی کمر توڑنے کا مشن جاری، سیکیورٹی فورسز کا باڑہ میں بڑا آپریشن ، متعدد دہشت گرد جہنم واصل

خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملنے پر باڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کردیئے گئے، جبکہ علاقے میں مزید ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس اور سرچ آپریشن بھی جاری رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی میں حالات بگڑ گئے، سہیل آفریدی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

خیبرپختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں تیزی آئی ہے 28 ستمبر کو بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باڑہ میں ہونے والی کارروائی بھی ملک میں دہشت گردی کے خلاف عزمِ استحکام کے تحت جاری کارروائیوں کا حصہ ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات نگرانی اور بروقت کارروائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تاکہ دہشت گردوں کو منظم ہونے یا کسی کارروائی کی منصوبہ بندی کا موقع نہ دیا جائے۔

سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles