ایران جنگ کا اثر یورپ تک پہنچ گیا،ایندھن مہنگا ہونے سے 100 ارب یورو کا نقصان

ایران جنگ کا اثر یورپ تک پہنچ گیا،ایندھن مہنگا ہونے سے 100 ارب یورو کا نقصان

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے اثرات عالمی توانائی منڈی تک پہنچ گئے ہیں۔ یورپی یونین کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یورپی یونین نے جنگ کے بعد تقریباً 100 ارب یورو اضافی ادا کیے۔ یہ رقم تیل اور گیس کی اضافی مقدار خریدنے کے بجائے بڑھی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خرچ ہوئی۔

قیمت کا بڑا جھٹکا

یورپی کمشنر برائے توانائی ڈین جورگنسن کے مطابق اضافی رقم خرچ کرنے کے باوجود یورپ کو توانائی کی اضافی مقدار حاصل نہیں ہوئی۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ راستہ عالمی تیل اور ایل این جی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اہم مالیاتی معاہدوں پر دستخط

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی توانائی تجارت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

صارفین پر اثر

آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور بندش کے باعث یورپ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔

مہنگے ایندھن کا اثر صرف گاڑیوں کے صارفین تک محدود نہیں رہا۔ ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کررہے ہیں۔

گھریلو صارفین کے بجٹ پر بھی توانائی کی مہنگائی کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ یورپی ممالک اب اضافی مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہے ہیں۔

جرمنی کا اقدام

جرمنی نے اکتوبر سے دسمبر تک پیٹرول اور ڈیزل پر عارضی ٹیکس کمی کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین پر بڑھتے ایندھن اخراجات کا دباؤ کم کرنا ہے۔

یورپ کے دیگر ممالک بھی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات پر غور کررہے ہیں۔ ان میں سبسڈی اور ٹیکس سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

فضائی سفر بھی متاثر

مہنگے ایندھن کا اثر یورپ کی فضائی صنعت پر بھی پڑا ہے۔ جرمن فضائی کمپنی لوفتھانزا نے اضافی جیٹ فیول اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

کمپنی نے رواں سال اضافی جیٹ فیول لاگت کا تخمینہ پہلے 1.5 ارب یورو لگایا تھا۔ اب اس لاگت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکا تک اثرات

ایران جنگ کے توانائی اثرات امریکا تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صارفین کو بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال امریکی صارفین کے ایندھن اخراجات میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یوں توانائی کی قیمتوں کا دباؤ مختلف خطوں میں محسوس کیا جارہا ہے۔

جنگ کا وسیع اثر

ایران جنگ کے اثرات جنگی علاقے تک محدود نہیں رہے۔ عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں کی تبدیلی نے کئی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا جنگ بندی سے انکار،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

توانائی کی مہنگائی کا تعلق عالمی تجارت اور صارفین کے اخراجات سے بھی جڑ گیا ہے۔ یورپ میں اضافی مالی بوجھ اس صورتحال کا ایک نمایاں پہلو ہے۔

100 ارب یورو کا اضافی خرچ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی کس طرح بڑے پیمانے پر معاشی اثرات پیدا کرسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال میں مزید تبدیلی عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات ایندھن کی قیمتوں اور مختلف شعبوں کے اخراجات پر پڑنے کا امکان برقرار ہے۔

editor

Related Articles