سہیل آفریدی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے،5 اکتوبر سے پہلے بڑی خوشخبری مل جائے گی،طارق آفاق

سہیل آفریدی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے،5 اکتوبر سے پہلے بڑی خوشخبری مل جائے گی،طارق آفاق

سینئر صحافی طارق آفاق نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے، خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے جا رہا ہے اور 5 اکتوبر سے پہلے بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئے گی،طارق آفاق نے کہا کہ میری جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگ رہا ہے، گورنر راج والی خبر بھی میں نے بریک کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس حکومت بھی ہے، اختیار بھی ہے اور اقتدار بھی، اس کے باوجود یہ لوگ لانگ مارچ نہیں کرسکتے تو پھر  گورنر راج لگا تو یہ اپنے گھروں سے بھی نہیں نکل سکیں گے۔

پی ٹی آئی کے پاس کوئی آپشن نہیں

سینئر صحافی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس اب کوئی آپشن نہیں ہے، خیبر پختونخوا چھیننے والے اسے چھین لیں گے، جبکہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ کوئی ردعمل نہیں دے سکتے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دی جانے والی گیدڑ بھبکیوں میں کوئی حقیقت نہیں، یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

5 اکتوبر سے پہلے سہیل آفریدی چلے جائیں گے

طارق آفاق نے کہا کہ 5 اکتوبر سے پہلے سہیل آفریدی چلے جائیں گے اور انہیں جیل بھی جانا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی دھمکی سے متعلق کیس کھلے گا، جس کے نتیجے میں سہیل آفریدی نااہل ہوں گے۔

ریڈیو پاکستان حملہ کیس بھی کھلے گا

سینئر صحافی نے مزید کہا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس بھی کھلے گا اور اس میں سہیل آفریدی کو 10 سال قید ہوگی ،طارق آفاق نے کہا کہ 5 اکتوبر سے پہلے خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئے گی اور اس حوالے سے آنے والے دن انتہائی اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی نے گورنر راج کیلئے درکار تمام جواز فراہم کردیئے،اختیار ولی

سینئر صحافی طارق آفاق نے آزاد ڈیجیٹل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت،   بے ضابطگیوں، سرکاری ٹھیکوں، عبدالہادی عرف پتنگ کی   سرگرمیوں، سہیل آفریدی کے قریبی افراد کی عدم موجودگی اور صوبے کی سیاسی صورتحال سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں۔

طارق آفاق کا کہنا تھا کہ 5 اکتوبر سے پہلے بڑی خوشخبری مل جائے گی اور سہیل آفریدی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ  ابھی سہیل آفریدی کی کرپشن کی فائلیں نہیں کھلی ہیں۔

عبدالہادی ملک سے باہر

طارق آفاق کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے کزن عبدالہادی اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ عبدالہادی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ وہ پہلے دبئی گئے اور اس کے بعد یورپ میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ عبدالہادی سہیل آفریدی کے کزن ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے فرنٹ مین بھی تھے، طارق آفاق کے مطابق پشتخرہ روڈ پر گاڑیوں کی ایک بارگین کے دوران سہیل آفریدی، مینا خان آفریدی، ادریس آفریدی اور عبدالہادی عرف پتنگ کے درمیان تعلقات قائم ہوئے تھے، جو بعد میں حکومت میں آنے کے بعد بھی برقرار رہے عبدالہادی کے اثر و رسوخ کا دائرہ سرکاری محکموں تک پہنچا، خصوصاً محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ان کے مطابق متعدد معاملات عبدالہادی کے ہاتھ میں تھے۔

KPRRDP کے 12 ٹھیکوں کا معاملہ

طارق آفاق نے  کہا  کہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایک منصوبے کے پی آر آر ڈی پی میں تقریباً 12 ٹھیکے دیے جانے تھے اور اس عمل میں 24 کمپنیاں سامنے آئی تھیں، ان 24 کمپنیوں میں سے چار منظورِ نظر کمپنیوں کو نوازنے کے لیے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی، انہوں نے زیڈ کے بی اور ایچ بی کے سمیت چار کمپنیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کے لیے قواعد پامال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں :کے پی کے بیورو کریسی کی نئی چال ،آئی جی پی سمیت تمام افسران کو ماتحت کرنے کا منصوبہ بنا لیا

طارق آفاق  نے کہا کہ سہیل آفریدی کے معاون خصوصی رہنے کے دور سے ہی ان کمپنیوں کے ساتھ روابط بڑھ گئے تھے، ان کا دعویٰ تھا کہ ان کمپنیوں کے ساتھ ایک سینئر بیوروکریٹ کے روابط بھی بتائے جاتے تھے اور عبدالہادی کے کہنے پر ان کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کے لیے قواعد پامال کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 20 کمپنیوں کو نکال دیا گیا تھا اور ٹیکنیکل عمل میں بھی مبینہ طور پر ایک طریقہ اختیار کیا گیا، جس کی تفصیلات انہوں نے پہلے اپنے وی لاگ اور ایکس پوسٹ میں بھی بیان کی تھیں۔

لیپ ٹاپ سے شواہد ملنے کا دعویٰ

طارق آفاق نے بتایا کہ 24 اگست کے قریب ایک تعمیراتی کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے سی اینڈ ڈبلیو کے مختلف منصوبوں سے متعلق اکاؤنٹ مینیجر طلحہ کا لیپ ٹاپ حاصل کیا گیا،ان کے مطابق شفیق اللہ خان وزیر نامی ایک پرائیویٹ کنسلٹنٹ بھی اس معاملے میں اہم کردار رکھتے تھے اور ان پر بھی کارروائی کی گئی،طارق آفاق کا کہنا تھا کہ حاصل کیے گئے لیپ ٹاپ سے ایسے شواہد سامنے آئے جن میں اپنی پسند کی کمپنیوں کو ٹھیکے دینے سے متعلق منصوبہ بندی موجود تھی۔

عبدالہادی  فرار

سینئر صحافی نے کہا کہ لیپ ٹاپ سے سامنے آنے والی معلومات کے بعد عبدالہادی ملک سے چلے گئے، عبدالہادی پہلے دبئی گئے اور ان کی اطلاع کے مطابق وہ جعلی پاسپورٹ پر دبئی پہنچے تھے۔ بعد میں ان کے یورپ میں موجود ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

طارق آفاق نے کہا کہ بعض اطلاعات کے مطابق عبدالہادی جرمنی میں، بعض کے مطابق فرانس میں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق یورپ کے کسی اور ملک میں ہیں،  انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات یہ ہیں کہ عبدالہادی یورپ میں مختلف ممالک تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ان کے پاس شینگن ویزا بھی موجود ہے،انہوں نے  کہا کہ عبدالہادی کو ملک سے فرار ہونے میں بعض لوگوں نے مدد فراہم کی۔

سہیل آفریدی کے بھائی بھی منظرعام سے غائب

طارق آفاق نے کہا کہ معاملہ صرف عبدالہادی تک محدود نہیں بلکہ سہیل آفریدی کے بھائی عامر آفریدی بھی منظرعام سے غائب ہیں، جبکہ ان کے دوسرے بھائی نوید آفریدی کے بارے میں بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ انہیں بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ نوید آفریدی افغانستان چلے گئے ہیں۔

کراچی میں منشیات کے چھاپے کا ذکر

طارق آفاق نے 20 اگست کو کراچی میں ہونے والے ایک چھاپے کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں ان کے مطابق امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی اور اے این ایف نے مشترکہ کارروائی کی تھی۔

ان کے مطابق امریکی سفارتخانے کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی اس کارروائی کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس میں کرسٹل میتھ یا آئس برآمد ہوئی تھی اور اس کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 5 ارب 82 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :ریڈیو پاکستان حملہ کیس،سہیل آفریدی پر تاحیات نااہلی کی تلوار لٹک گئی، گرفتاربھی کیا جاسکتاہے، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شبیر حسین گگیانی

طارق آفاق نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے بعد تحقیقات میں خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے تین ارکان کے قریبی رشتہ داروں کے مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک سے تعلقات سامنے آنے لگے،ان کے مطابق اس کارروائی کے بعد کابینہ کا ایک رکن بھی روپوش ہے اور پی ٹی آئی قیادت اس حوالے سے خاموش ہے۔

افغانستان سے تعلقات کا دعویٰ

طارق آفاق نے دعویٰ کیا کہ منشیات کی ایک کھیپ مسقط کے راستے سری لنکا بھیجی جانی تھی اور ان کی اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی کئی بڑی کھیپ بھیجی جاچکی تھیں،ان کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان میں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

انہوں نے حکومتی شخصیات کی جانب سے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی معاونت، حمایت اور انہیں پناہ دینے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ پریس کانفرنسیں ان کے بقول صرف ایک بڑے معاملے کا معمولی حصہ ہیں۔

بڑی پریس بریفنگ کا دعویٰ

طارق آفاق نے کہا کہ 4، 5 یا 6 اکتوبر کو ایک بڑی پریس کانفرنس یا پریس بریفنگ ہوسکتی ہے،ان کے مطابق یہ بریفنگ کسی سیاسی شخصیت کی جانب سے نہیں ہوگی بلکہ ان کی اطلاعات کے مطابق ممکنہ طور پر کسی عسکری شخصیت کی جانب سے ہوسکتی ہے۔

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب اشارہ کیے جانے کے سوال پر کہا کہ عین ممکن ہے کہ اس موقع پر ایسے شواہد سامنے لائے جائیں جو ان کے خیال میں قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوں گے۔

طارق آفاق نے کہا کہ ان کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات سے متعلق محض الزامات نہیں بلکہ شواہد بھی موجود ہیں۔ انہوں نے شبلی فراز اور طالبان کمانڈر کے درمیان مبینہ آڈیو گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مزید چیزیں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں

سینئر صحافی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بارے میں ان کا شروع سے موقف ہے کہ یہ سیاسی جماعت نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک فرد کے گرد قائم ہے اور ان کے مطابق عمران خان نہ ہوں تو پارٹی منتشر ہوجائے گی، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ایک پریشرائزنگ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے،طارق آفاق کے مطابق اقتدار میں آنے اور پھر اقتدار سے نکلنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کی سیاست دھونس، دھمکیوں، گالیوں اور دھاندلی کے گرد گھومتی رہی ہے۔

عمران خان کے رویے پر گفتگو

انہوں نے کہا کہ اگر جیل جانے کے بعد سیاسی پختگی آتی ہے تو ان کے خیال میں موجودہ صورتحال میں ایسا نظر نہیں آیا،طارق آفاق نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے لیے پس پردہ مذاکرات بھی کیے گئے، تاہم موقع ملنے کے بعد انہوں نے ملک کی اہم عسکری شخصیت کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں طارق آفاق نے دہرانے سے گریز کیا۔

فائلیں تلف کرنے کی بات

انٹرویو کے دوران حکومت کے خاتمے کے خدشے کے پیش نظر اہم دستاویزات، فائلیں یا کاغذات ہٹانے، جلانے یا ختم کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر بھی بات ہوئی۔

طارق آفاق نے کہا کہ موجودہ دور میں سرکاری فائل ورک بڑی حد تک ڈیجیٹل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل سمریاں ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ جاتی ہیں اور چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچتی ہیں، اس لیے ان کا ریکارڈ مختلف مقامات پر موجود رہتا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر مکمل ریکارڈ تلف کیا جائے تو اس سے خود ذمہ دار افراد کے خلاف سوال اٹھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس، فرانزک رپورٹس کی روشنی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنما مقدمے میں نامزد، نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی

KPRRDP سمری پر اختلاف

طارق آفاق نے دوبارہ کے پی آر آر ڈی پی کے 12 منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد جب سیاسی صورتحال تبدیل ہونے لگی تو سی اینڈ ڈبلیو کے سیکرٹری نے ایک سمری آگے بھیجنے سے انکار کردیا، سہیل آفریدی چاہتے تھے کہ سمری کابینہ سے منظور کروائی جائے تاکہ بعد میں یہ مؤقف اختیار کیا جاسکے کہ فیصلہ انفرادی طور پر نہیں بلکہ کابینہ نے کیا تھا۔

طارق آفاق نے کہا کہ بعض لوگ سہیل آفریدی کو ایسے معاملات سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ آئی جی یا چیف سیکرٹری نے بعض معاملات میں ان کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اسلام آباد جانے کے اعلان کے بعد عدالت میں درخواست دائر ہوئی اور چیف سیکرٹری اور آئی جی سے متعلق معاملہ سامنے آیا۔

editor

Related Articles